سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرینِ معیشت کی تحقیق کے مطابق، سافٹ ویئر ڈیولپرز اور کسٹمر سروس ورکرز وہ دو شعبے ہیں جن میں پہلے ہی نمایاں تعداد میں ملازمین کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے بدلنا شروع کر دیا ہے، کیونکہ دیگر پیشوں کے مقابلے میں ان کا کام زیادہ آسانی سے خودکار کیا جا سکتا ہے۔
ایرک برائن جالفسن، بھارت چندر اور رویو چن کی تحقیق نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ 20 کی دہائی کے اوائل اور وسط میں نوجوان سب سے زیادہ متاثرہ گروپ ہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت ان کی یونیورسٹی سطح کی ’کتابی تعلیم‘ نقل کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2022 سے جولائی 2025 تک نوجوانوں کے روزگار میں چھ فیصد کمی آئی ہے، خاص طور پر ان ملازمتوں میں جو اے آئی کے زیادہ زیرِ اثر ہیں، جبکہ بڑی عمر کے کارکنوں کے لیے ملازمتوں میں چھ سے نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔
برائن جالفسن نے سی بی ایس منی واچ کو بتایا: ’یہ بڑے لینگویج ماڈلز کتابوں، مضامین اور انٹرنیٹ سمیت دیگر ذرائع پر مبنی مواد پر تربیت پاتے ہیں۔ یہ اسی قسم کی کتابی تعلیم ہے جو زیادہ تر لوگ یونیورسٹی میں حاصل کرتے ہیں، اسی لیے اس میں اور نوجوانوں کے علم میں نمایاں اوورلیپ پایا جاتا ہے۔‘
ماہرینِ معیشت نے نشاندہی کی کہ ان شعبوں میں روزگار میں اضافہ ہوا ہے جہاں مصنوعی ذہانت کا استعمال زیادہ معاونت فراہم کرتا ہے، یعنی جہاں یہ ملازمین کی مدد کے لیے استعمال ہوتا ہے، نہ کہ مکمل طور پر ان کی جگہ لینے کے لیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جولائی میں مائیکروسافٹ کی جاری کردہ ایک اور تحقیق میں ان ملازمتوں کی فہرست بھی دی گئی، جنہیں مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ اور سب سے کم خطرہ لاحق ہے۔
مترجمین، ترجمان، مؤرخین، مسافروں کے اٹینڈنٹ اور سیلز نمائندگان کو ان ملازمتوں میں شمار کیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
تاہم جسمانی محنت طلب یا خصوصی مہارت والی ملازمتیں، جیسے ڈریج آپریٹرز، پل اور لاک ٹینڈرز اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ و سسٹم آپریٹرز کو سب سے زیادہ محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
اسی ماہ جاری ہونے والی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف جولائی میں ہی نجی شعبے میں جنریٹیو اے آئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے استعمال کے باعث 10 ہزار سے زیادہ ملازمتیں ختم ہو گئیں۔
ذیل میں مائیکروسوفٹ کی فہرست دیکھی جا سکتی ہے:
اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ملازمتیں
مترجمین اور ترجمان، مؤرخین، مسافروں کے اٹینڈنٹ، سیلز نمائندگان، مصنفین و ادیب، کسٹمر سروس نمائندگان، سی این سی ٹول پروگرامرز، ٹیلی فون آپریٹرز، ٹکٹ ایجنٹس اور ٹریول کلرکس، نشریاتی اینکرز اور ریڈیو ڈی جیز، بروکریج کلرکس (سٹاک یا سرمایہ کاری دفاتر کے کلرک)، زرعی اور گھریلو انتظامی تعلیم دینے والے اساتذہ، ٹیلی مارکیٹرز (فون کے ذریعے سیلز کرنے والے)، کنسیرج (ہوٹل یا دفتری معاونین جو رہنمائی و خدمات فراہم کرتے ہیں)، سیاسی سائنس دان، خبری تجزیہ کار، رپورٹرز اور صحافی، ریاضی دان، تکنیکی مصنفین، پروف ریڈرز اور مسودہ درست کرنے والے، میزبان، مدیران، جامعاتی سطح پر کاروباری تعلیم دینے والے اساتذہ، پبلک ریلیشنز ماہرین، مصنوعات کے مظاہرہ کار اور تشہیر کنندگان، اشہاری فروخت کے ایجنٹس، نئے اکاؤنٹس کلرکس، اعدادی معاونین، کاؤنٹر اور کرایہ پر اشیا دینے والے کلرکس، ڈیٹا سائنس دان، ذاتی مالیاتی مشیران، دستاویزات کے محافظین (آرکائیوسٹس)، جامعاتی سطح پر معاشیات کے اساتذہ، ویب ڈویلپرز، انتظامی تجزیہ کار، ماہرینِ ارضیات، ماڈلز، مارکیٹ ریسرچ تجزیہ کار، پبلک سیفٹی ٹیلی کمیونی کیٹرز (ہنگامی کال آپریٹرز وغیرہ)، سوئچ بورڈ آپریٹرز اور جامعاتی سطح پر لائبریری سائنس کے اساتذہ ان ملازمتوں میں شامل ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے خدشے میں ہیں۔
مصنوعی ذہانت سب سے کم متاثر ہونے والی ملازمتیں
ڈریج آپریٹرز (گہری کھدائی یا آبی گزرگاہ صاف کرنے والی مشینیں چلانے والے کارکن)، پل اور لاک ٹینڈرز (پلوں اور آبی راستوں کے گیٹ/لاک نظام کو سنبھالنے والے کارکن)، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور نظام چلانے والے آپریٹرز، فاؤنڈری مولڈ اور کور بنانے والے کاریگر، ریل کی پٹڑی بچھانے اور مرمت کا سامان چلانے والے آپریٹرز، پائل ڈرائیور آپریٹرز (گہرے کھمبے یا ستون زمین میں نصب کرنے والی مشینیں چلانے والے کارکن)، فرش رگڑنے اور پالش کرنے والے کاریگر، ہسپتالوں کا معاون عملہ / وارڈ اٹینڈنٹس، موٹر بوٹ چلانے والے آپریٹرز، لکڑی کاٹنے اور جنگلاتی مشینری چلانے والے آپریٹرز۔
© The Independent