موسم سرما اور یادیں

اگر آپ کے پاس بھی فرصت ہے اور آپ یادوں کا پشتارہ ٹٹولنا چاہتے ہیں تو مشتری ہوشیار باش، کوئی بھی یاد انگلی پکڑ کے وہاں لے جائے گی، جہاں ابا نے مرغا بنا کے دھلائی کی تھی یا اماں نے پورے خاندان کے سامنے پراگرس رپورٹ پڑھ لی تھی۔

تین جنوری 2024 کی اس تصویر میں اسلام آباد کے ایک پارک میں رکھی انگیٹھی میں ایک بلی سردی سے بچنے کے لیے سوئی ہوئی ہے (اے ایف پی)

موسمِ سرما اور یادوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یادوں کا تو یہ ہے کہ جیسے کہرے کی طرح احاطہ کیے رکھتی ہیں۔ کوئی رخنہ، کوئی کھڑکی کھلی رہ جائے تو چپکے چپکے ساری دھند کمرے میں گھس آتی ہے۔

آج ابا کے گھر کی ایک ایسی ہی یاد سامنے آگئی۔ شاید وسط دسمبر کے دن تھے۔ کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔ ابو شکار پہ گئے ہوئے تھے، گھر میں کتوں کے راتب کے لیے اوجڑی ابل رہی تھی۔ سل پہ شامی کبابوں کا مصالحہ پس رہا تھا اور امی شتری رنگ کی اون سے چشم بلبل کا نمونہ ڈال کے سویٹر بن رہی تھیں۔

میں اکتا کے گھر سے نکلی اور ٹہلتی ٹہلاتی، گھوڑوں کے اصطبل میں جھانکتی، سائیس کے گھر گھس گئی۔ اقبال کے گھر میں سفید خرگوش پلے ہوئے تھے اور میرے پہنچنے سے پہلے وہ گھر میں پکانے کے لیے ایک خرگوش ذبح کر چکا تھا۔

اقبال چونکہ ہم بچوں کو سکول لے کر جاتا تھا، اس لیے ہماری پکی دوستی تھی۔ میں نے اقبال سے کہا کہ اس خرگوش کی کھال مجھے دے دے، میں اس میں بھس بھر کے رکھوں گی۔

یہ جملہ بھی نیا نیا کانوں میں پڑا تھا اور بہت جی چاہتا تھا کہ کسی کی کھال میں بھس بھروا کے رکھا جائے۔  اس کے بعد میں اوائی توائی گھومتی رہی۔ بیلنے پہ جا کے گنے کی رو نکلتے دیکھی، وہاں سے ٹل کے گڑ کے کڑہاؤ میں جھانکا، وہاں سے نکل کے کہیں اور خاک اڑائی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائے لمبے ہوتے ہی میں گھر کی طرف دوڑی۔ پتہ تھا کہ یہ شامیں کتنی تنک مزاج ہوتی ہیں، ابھی شام ڈھلی اور یہ رات آگئی۔ گھر پہنچی تو برآمدوں میں چقیں چھوڑی جا رہی تھیں۔ دروں میں لالٹین صاف کر کے لٹکا دی گئی تھیں اور دونوں بڑی انگیٹھیوں میں آگ جل رہی تھی۔انگارے بنتے ہی یہ بھی برآمدوں میں رکھ دی گئیں۔

کمروں میں بستروں پہ رضائیاں رکھ دی گئی تھیں اور باورچی خانے سے برتنوں کی کھٹ پٹ کے ساتھ مچھلی کی اشتہا انگیز خوشبو اٹھ رہی تھی۔

گھر میں اتنے لوگ اور ان کی ایسی ایسی مصروفیات ہوتی تھیں کہ کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم دنیا سے دور ایک اپنی ہی دنیا میں رہ رہے ہیں۔

ہر گھر ایسی ہی ایک کائنات ہوتا ہے یا شاید ہم عورتوں کے میکے ہمارے ذہن کے کسی خانے میں ایک الگ کائنات کی طرح محفوظ ہو جاتے ہیں اور شاید ہر انسان کے ذہن میں بچپن کی یاد بلور کی گولی کی طرح ایسے ہی چمکتی دمکتی محفوظ ہوتی ہے۔ اس یاد میں روشنی ہوتی ہے،  ماں کی گود کی شیرگرم سی آسودگی اور ایک بے فکری۔

مجھے یاد ہے کسی کمرے میں عابدہ پروین کے گانے سنے جا رہے تھے اور ایک کمرے میں دادا اجمل ’آدھی عورت، آدھا خواب‘ پڑھ رہے تھے۔ ایک کمرے میں کوئی بہن ایپلیک کی ٹی کوزی بنا رہی تھی، دوسرے کمرے میں گل بھائی سکیچنگ کر رہے تھے۔ ابھی سب چھوٹے تھے اور لالچ کا بھوت سروں پہ نہیں کھیل رہا تھا۔ پینسل اور آرٹ پیپر سے ہی دل بہلا لیا جاتا تھا۔ بہنوں کی انا کے سر کاٹ کے اس کا مینار بنانے میں ابھی کئی دہائیاں باقی تھیں۔

تب نیند بھی جلدی آتی تھی۔ جانے کب سو گئی۔ آنکھ کھلی تو جانے رات کا کیا بجا تھا، ابو شکار سے واپس آچکے تھے اور امی ان کے لیے کھانا گرم کروا رہی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے باورچی خانے کی کھڑکی سے انجیر کا درخت اور اس کے پیچھے ٹنگا ماگھ کا چاند نظر آرہا تھا۔

ابو کھانے کی چوکی پہ منتظر بیٹھے تھے، امی اور ماسی زہرہ کھانا گرم کر رہی تھیں، تب نجانے کس ناشدنی نے قاب سے ڈھکی خرگوش کی کھال لا کے ابو کے سامنے رکھ دی۔

جانے کس لطف کے تصور میں ابو نے قاب اٹھائی اور خون میں لتھڑی، خرگوش کی کھال دیکھ کے انہیں ایسا طرارہ آیا کہ رکابی اٹھا کے کھال سمیت وہ اچھالی اور اس کے بعد جو ہوا وہ بس ایک ناگوار شور کی طرح یاد ہے۔

امی کیا صفائیاں دیتی رہیں اور بات کیسے دبائی گئی مجھے صرف یہ یاد ہے کہ میں بہت خوفزدہ ہو گئی تھی اور ابو کو بتا نہیں سکی تھی کہ ابو یہ کھال میں لے کے آئی ہوں اور میں نے اس میں بھس بھر کے رکھنی ہے۔

انجیر پہ چاند ٹنگا رہا، کھال کہیں پھنکوا دی گئی، جانے کتنی دہائیاں گزر گئیں، بچپن کی شیر گرم، بلوریں یادوں میں، جہاں ابو کی محبت، شفقت، عنایات اور مہربانیاں نقش ہیں، وہیں سردیوں کی ایک رات یہ بھی نقش ہے۔

یادیں تو یادیں ہوتی ہیں، تلخ، ترش، شیریں، پھیکی، سیٹھی، جیسی بھی ہوتی ہیں۔ انہیں سینتے بنا چارہ نہیں ہوتا اور خاص کر میکے کی یادیں اور وہ بھی سردیوں کی یادیں۔

سو ہم نے بھی یہ یادیں سنبھال کر رکھی ہیں، اس رات کے بعد اتنی ہمت کبھی نہیں ہوئی کہ اپنی کوئی بھی خواہش کسی سے بے ساختہ کہہ سکی۔

تو یادیں ایسی ہوتی ہیں، شاید یہی بات مئی جون میں یاد آتی تو اسی بات پہ قہقہے لگا کر ہنستی کہ کیا حماقت کی تھی اور امی نے کیسی سمجھداری سے بات سنبھالی تھی مگر یہ سارا جادو موسم کا ہے۔

صاحبو! یادیں اور موسم سرما، بے حد خوفناک کمبینیشن ہے، اگر آپ کے پاس بھی فرصت ہے اور آپ کینوؤں کی ٹوکری لے کے آدھی دھوپ، آدھی چھاؤں میں بیٹھ کے میکے کی یادوں کا پشتارہ ٹٹولنا چاہتے ہیں تو مشتری ہوشیار باش،  کوئی بھی یاد انگلی پکڑ کے وہاں لے جائے گی، جہاں ابا نے مرغا بنا کے دھلائی کی تھی اور پھر بہت دکھ ہو گا، یا اماں نے پورے خاندان کے سامنے پراگرس رپورٹ پڑھ لی تھی۔ برا بھلا سمجھانا ہمارا فرض تھا، سمجھا دیا۔ آگے آپ جانیں اور آپ کا کام۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ