پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے۔ دو تہائی سے زیادہ آبادی 30 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور یہ حقیقت نہ صرف ایک سماجی سچائی ہے بلکہ ایک معاشی موقع بھی۔ دنیا بھر میں وہ ممالک جن کے پاس نوجوان افرادی قوت وافر مقدار میں موجود ہو اور اگر وہ اپنی سمت درست رکھیں، تو چند دہائیوں میں اقتصادی ترقی کی مثال بن جاتے ہیں۔
پاکستان کے پاس بھی یہی موقع موجود ہے مگر اس کے لیے مستقبل کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے آج فیصلے کرنا ہوں گے، خاص طور پر اس حوالے سے آنے والے برسوں میں کون سی مہارت سب سے زیادہ اہمیت اختیار کریں گی۔
گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ابھری ہے۔ آئی ٹی برآمدات اضافہ، فری لانسنگ کے شعبے میں نوجوانوں کی نمایاں شرکت اور آن لائن مارکیٹ سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں مستقل اضافہ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کا نوجوان نہ صرف عالمی مارکیٹ میں قدم رکھنے کے قابل ہے بلکہ تیزی سے مقابلہ بھی کر رہا ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی میں اضافہ اس رجحان کو مزید تقویت دیتا ہے۔
2025 کے آغاز تک ملک میں 11 کروڑ سے زائد پاکستانی انٹرنیٹ استعمال کر رہے تھے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل صلاحیتوں کا حصول اب کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک بھر میں اس کے امکانات موجود ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل ترقی محض بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ صوبائی اور ضلعی شہروں، حتیٰ کہ نیم شہری و دیہی علاقوں میں بھی نوجوان گرافک ڈیزائن، ورچوئل اسسٹنس، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ، اور مواد کی تیاری کے ذریعے عالمی مارکیٹ سے رابطے میں آرہے ہیں۔
تاہم اس ابھرتے ہوئے منظرنامے میں چند خدشات بھی موجود ہیں۔ پالیسیوں میں اچانک تبدیلیاں، انٹرنیٹ سروسز کی بندش یا تکنیکی رکاوٹیں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں عدم تسلسل اس نئے معاشی سلسلے کے لیے خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ مختلف صنعتی اور کاروباری تنظیمیں بارہا یہ نشاندہی کر چکی ہیں کہ اگر انٹرنیٹ کی رفتار، دستیابی اور پالیسی ماحول میں بے یقینی برقرار رہی تو پاکستان کے نوجوان ڈیجیٹل مارکیٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ اس لیے مستقبل کی بات کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ صرف مہارتیں کافی نہیں، پائیدار اور کھلا پالیسی ماحول اس کا لازمی حصہ ہے۔
مستقبل کا سب سے واضح تقاضا ٹیکنالوجی کی سمجھ اور اس کے عملی استعمال کی صلاحیت ہے۔ پروگرامنگ، ویب ڈویلپمنٹ، کلاؤڈ ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا سائنس وہ مہارتیں ہیں جو آئندہ برسوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں روزگار کے بنیادی ستون بن جائیں گی۔ عالمی کمپنیوں کے ڈیجیٹل ڈھانچے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور انہیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو نہ صرف ٹیکنالوجی سمجھتے ہوں بلکہ اسے کاروبار کے اندر موثر طریقے سے استعمال کرنا بھی جانتے ہوں۔ پاکستان میں آئی ٹی برآمدات کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستانی ٹیلنٹ پر اعتماد کر رہی ہے لیکن یہ اعتماد تب ہی طویل عرصے تک قائم رہے گا جب ہم اپنے نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق تیار کریں۔
تاہم ٹیکنالوجی کی گفتگو یہاں تک محدود نہیں رہتی۔ ایک وسیع تر حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا جس تیزی سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی طرف بڑھ رہی ہے، وہاں بہت سے روایتی اور تکنیکی کام مصنوعی ذہانت بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہے۔
اس لیے وہ صلاحیتیں جو انسانی ذہانت کا ایسا گوشہ استعمال کرتی ہیں جسے اے آئی مکمل طور پر نہیں بدل سکتی، انہیں مستقبل میں زیادہ اہمیت ملے گی۔ تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی طاقت، جذباتی ذہانت، ٹیم ورک، فیصلہ سازی اور انسانی روابط کی مہارت، یہ وہ ہنر ہیں جو مشینیں انسانوں سے نہیں چھین سکتیں۔ 2030 تک جن نوکریوں کی مانگ بڑھے گی وہ انہی انسانی اور تکنیکی مہارتوں کا امتزاج ہوں گی۔
مستقبل کی دنیا سپیشلائزیشن سے زیادہ بین الشعبہ مہارتوں کا تقاضا کرے گی۔ مثال کے طور پر زراعت اور ٹیکنالوجی کا ملاپ جسے آج ایگری ٹیک کہا جاتا ہے نہ صرف کسانوں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ پانی کے مؤثر استعمال سے لے کر فصلوں کی نگرانی تک جدت پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح صحت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا امتزاج ایک ایسی دنیا تشکیل دے رہا ہے جہاں دور دراز علاقوں میں بیٹھا ڈاکٹر، موبائل فون کے ذریعے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص کر سکتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں ایجو ٹیک وہ دروازے کھول رہا ہے جو پہلے ممکن نہیں تھے۔ پاکستان میں اس وقت آن لائن سیکھنے کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عالمی اداروں کے مختصر کورسز نوجوانوں کو نئے شعبوں میں مہارت دے رہے ہیں۔
فری لانسنگ مستقبل کا ایک اہم رخ ہے، لیکن یہ ایک ایسا راستہ بھی ہے جس میں مواقع کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ پاکستان کی بڑی تعداد عالمی پلیٹ فارمز پر کام کر رہی ہے اور ملک کے لیے زرمبادلہ کما رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ عدم استحکام، کم معاوضہ اور سوشل پروٹیکشن کی عدم موجودگی دونوں موجود ہیں۔
ایک موقع یہ ہے کہ نوجوان کسی کمپنی کی ملازمت کی بجائے پوری دنیا کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ مگر اس میں چیلنج یہ ہے کہ یہ ماڈل مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتا۔ پاکستان کو آنے والے برسوں میں اس شعبے کو قانون، ٹیکس اور سوشل سیکیورٹی کے ذریعے محفوظ بنانا ہوگا ورنہ نوجوان نہ تو مالی استحکام کی طرف پیش قدمی کر پائیں گے اور نہ ہی طویل مدتی منصوبہ بندی کرسکیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تعلیمی نظام میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ہمارا موجودہ نصاب اور تدریسی طریقہ کار صنعتی دور کی ضروریات کے مطابق ہے، جبکہ دنیا اب ڈیجیٹل دور کی مہارتوں کی طلب میں ہے۔ اگر ہم اسکول کے مرحلے سے ہی بچوں کو کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل لٹریسی، مسئلہ حل کرنے کی مشق اور تنقیدی سوچ سکھانا شروع کر دیں تو 2030 تک ہمارا نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔
کالجز اور یونیورسٹیز کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے انڈسٹری سے جڑی مہارتوں پر زور دینا ہوگا۔ یہی وہ ماڈل ہے جس نے انڈیا، فلپائن، مصر اور کئی دوسرے ممالک کو عالمی آئی ٹی مرکز بنایا۔
شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق مٹنا بھی مستقبل کی ترقی کا اہم حصہ ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں روزگار کے مواقع یکساں ہوں تو انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہوگا۔ تیز رفتار انٹرنیٹ، مستحکم ڈیجیٹل پالیسی اور ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی وہ بنیادیں ہیں جن پر مستقبل کھڑا ہوگا۔ پاکستان کے نوجوان نے خود کو ثابت کر دیا ہے اب نظام کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔
2030 تک پاکستان کے روزگار کا نقشہ مکمل طور پر بدل چکا ہوگا۔ وہ دنیا جس میں صرف تعلیمی ڈگری کافی تھی اب ماضی کی بات بن چکی ہے۔ آنے والے وقت میں مہارتوں کا امتزاج، ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویے، مضبوط انسانی صلاحیتیں، اور عالمی سطح پر قابلِ قبول تکنیکی قابلیت ہی وہ بنیادیں ہوں گی جو نوجوانوں کو آگے لے جائیں گی۔ پاکستان اگر آج سے ہی یہ سمت اختیار کر لے یعنی تعلیم کو مستقبل سے جوڑ دے، ڈیجیٹل معیشت کو بڑھنے دے، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرے اور پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرے تو نہ صرف یہ کہ نوجوان ملک کو ترقی دیں گے بلکہ پاکستان عالمی اقتصادی مقابلے میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔
مستقبل کوئی دور کی چیز نہیں وہ آج ہی سے شروع ہوتا ہے۔ جس نوجوان اور حکومت نے آج سے سوچنا اور سیکھنا شروع کر دیا وہی 2030 کی دنیا میں مضبوط قدموں کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ پاکستان کا مستقبل اسی نوجوان کے کندھوں پر ہے اور یہی وقت ہے کہ ملک اس مستقبل میں سرمایہ کاری کرے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

