شمالی کوریا کے آمر کم جونگ اُن نے خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر ایک عجیب و غریب تقریر میں خواتین کو ’جسمانی طور پر کمزور‘ اور ’سادہ چہروں والی‘ قرار دیتے ہوئے انہیں انقلاب کے ’مضبوط ستون‘ ہونے پر سراہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ ’تمام کوریا کی خواتین کا ان کی غیر معمولی اور نامعلوم کوششوں کے لیے خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’جب تک ہماری خواتین اپنے ناقابل متبادل فرائض اور کردار کو نبھاتے ہوئے حب الوطنی کی روایات کو آگے بڑھاتی رہیں گی تب تک ہمارا معاشرہ مضبوط اور خوشحال رہے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہماری موجودہ دور کی خواتین انقلاب کا ایک مضبوط ستون بن گئی ہیں۔ اگرچہ جسمانی طور پر کمزور ہیں مگر ان کی ارادے کی قوت واضح ہے، ان کے سادہ چہرے حوصلے کی علامت ہیں اور ان پر موجود جھریاں ان کی شدید محنت کی نشانی ہیں۔‘
بین الاقوامی یوم خواتین کے موقعے پر منعقدہ تقریب میں ان کی اہلیہ ری سول جو اور بیٹی جو آئ بھی موجود تھیں۔
بیٹی، جنھیں کم جونگ اُن کا جانشین سمجھا جاتا ہے، اپنے والد کا ہاتھ پکڑے ہوئے دیکھی گئی۔
کم جونگ اُن نے کہا ’میں فخر کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ تمام کوریا کی خواتین جو ہمارے لیے عزیز ہیں، مائیں، بیویاں، بیٹیاں اور گرل فرینڈز دیگر ممالک کی خواتین کے مقابلے میں واقعی خوبصورت اور عظیم ہیں۔
’کوریا کی خواتین، جو مشکلات کے وقت ایمان دار رہیں، غم کے لمحوں میں دلیری دکھائی اور موت کے خوف کے باوجود بہادر رہیں، انہوں نے انقلاب کی تاریخ اور عالمی تاریخ کے صفحات میں شاندار کارنامے انجام دیے۔
’یہ کارنامے آج بھی ہماری یادداشت میں موجود ہیں اور ہمارے مضبوط روحانی ستون کا کام دیتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرکاری خبر رساں ادارے نے بتایا کہ تقریر کے بعد انہیں زبردست تالیاں ملیں۔
ہومن رائٹس واچ کے مطابق ’اگرچہ شمالی کوریا کے حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ صنفی مساوات حاصل ہو چکی ہے لیکن شمالی کوریا کی خواتین اور لڑکیاں شدید اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرتی ہیں، جن میں جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد، عام امتیاز اور سخت صنفی دقیانوسی تصورات کی پابندی شامل ہیں۔‘
عالمی انسانی حقوق کے گروپ نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا میں مردانہ نظریات خواتین کے کردار کو زیادہ تر گھریلو ذمہ داریوں اور کم درجے کی معاشی سرگرمیوں تک محدود کر دیتے ہیں۔
گروپ نے کہا کہ خواتین اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت میں شدید طور پر کم نمائندگی رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ’مرکزی کمیٹی میں خواتین کی تعداد 2016 سے 2019 کے درمیان دوگنی ہو گئی اور ریاستی میڈیا میں خواتین عہدے داروں کی موجودگی بڑھ گئی۔
’تاہم قیادت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا نتیجہ پالیسی میں تبدیلی کی شکل میں ظاہر نہیں ہوا۔‘
© The Independent