شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ایک فوجی پریڈ کے موقع پر اپنی صاحبزادی کے ساتھ ہم رنگ جیکٹیں زیب تن کیں، جس نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ وہ اپنی بیٹی کو آئندہ قیادت کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
حکمراں ورکرز پارٹی کے اجلاس کے اختتامی مراحل کی مناسبت سے سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے جمعرات کو جاری تصاویر میں کم جونگ اُن کی بیٹی جو اے نمایاں طور پر موجود تھیں۔ باپ بیٹی ایک دوسرے کے پہلو میں کھڑے وسیع فوجی پریڈ کا مشاہدہ کر رہے تھے اور دونوں نے ایک جیسی چمڑے کی جیکٹ پہن رکھی تھیں۔ کم جونگ اُن کی اہلیہ ری سول جو اسی نوع کے لباس میں ان کے ساتھ نظر آئیں۔
کم خاندان کئی دہائیوں سے شمالی کوریا پر آہنی گرفت کے ساتھ حکمرانی کر رہا ہے، اور ان کے مبینہ ’پیکٹو نسب‘ کے گرد قائم شخصیت پرستی کا غلبہ اس ملک کی روزمرہ زندگی پر چھایا ہوا ہے۔
جو اے کو طویل عرصے سے اگلی وارث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور حالیہ نمایاں عوامی تقاریب میں ان کی شرکت نے اس خیال کو مزید تقویت دی ہے۔
تجزیہ کار لم ایل چُل کے مطابق یہ جیکٹ محض فیشن کا اظہار نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام ہے، کیونکہ کم جونگ اُن اہم مواقع پر اکثر یہی طرز کا لباس اختیار کرتے ہیں۔ ان کے بقول شمالی کوریا کی سیاسی علامت نگاری میں یہ انداز قومی سلامتی اور مستقبل کی خوشحالی کے ضامن رہنما کی شبیہ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے جب یہی علامتی لباس ان کی کم عمر بیٹی کو پہنایا جائے تو اسے اتفاقی قرار دینا دشوار ہے۔
پریڈ کی دیگر تصاویر میں جو اے کو سرخ قالین پر اپنے والد کے ہمراہ چلتے دیکھا گیا، جب کہ وہ اعلیٰ فوجی افسران کی سلامی وصول کر رہے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جنوبی کوریا کی قومی انٹیلی جنس سروس نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ جو اے کو واضح طور پر جانشین کے طور پر نامزد کیا جا چکا ہے۔
کوریائی امور کے ماہر لیف ایرک ایزلے کے مطابق حالیہ تقریب میں ان کی موجودگی ان کے بلند ہوتے مقام کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم وہ اب بھی رہنما کی بیٹی کی حیثیت سے سامنے آتی ہیں اور غالباً پارٹی اجلاس میں کسی سرکاری عہدے کے ساتھ شرکت کے لیے ابھی کم عمر ہیں۔
جو اے پہلی بار 2022 میں عالمی منظرنامے پر اس وقت آئیں جب وہ اپنے والد کے ہمراہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے میں شریک ہوئیں۔ اس سے قبل ان کے وجود کی واحد تصدیق سابق این بی اے کھلاڑی ڈینس راڈمین نے کی تھی، جنہوں نے 2013 میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا۔ پیانگ یانگ نے ان کی درست عمر کبھی ظاہر نہیں کی، تاہم مبصرین کے نزدیک وہ نو عمری کے ابتدائی برسوں میں ہیں۔
جو اے اپنی پرتعیش ملبوسات کی پسند کے باعث بھی توجہ حاصل کر چکی ہیں؛ وہ گُوچی کے چشمے اور کارتیے کی گھڑی پہنے نظر آ چکی ہیں۔ بعض مواقع پر انہوں نے ہم رنگ چمڑے کی جیکٹ اور گہرے چشمے پہن کر اپنے والد کے منفرد انداز کی بھی پیروی کی ہے۔