پاکستان آرمی اور نیشنل باکسنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام گذشتہ ماہ حیدرآباد میں ہونے والی نیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ 2026 میں فیصل آباد کی دو طالبات نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈلز اپنے نام کر لیے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی طالبہ علیشبا کمال نے فیدر ویٹ کیٹیگری جبکہ جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کی طالبہ حفصہ نوید نے انڈر 60 کلوگرام ویٹ کیٹیگری میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔
علیشبا کمال بی ایس مائیکرو بایولوجی کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ ہیں، جبکہ حفصہ نوید بی ایس فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز کے چوتھے سمسٹر میں زیر تعلیم ہیں۔
دونوں کھلاڑی فیصل آباد کے عثمان باکسنگ کلب سے وابستہ ہیں، جسے سابق نیشنل باکسنگ چیمپیئن رضوان اللہ خان اور ان کے بھائی خضران اللہ خان چلاتے ہیں۔
علیشبا کمال نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے یونیورسٹی میں داخلے سے قبل کبھی باکسنگ نہیں کی تھی۔
’میں نے مارشل آرٹ سیکھا ہوا تھا، لیکن باکسنگ میں نے یونیورسٹی آ کر شروع کی۔ ایک دن دوستوں کے ساتھ گراونڈ میں تصاویر بنا رہی تھی، بچوں کو کھیلتا دیکھا تو شوق پیدا ہوا اور میں نے کلب جوائن کر لیا۔‘
انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے کوچ رضوان اللہ خان کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ سخت اور باقاعدہ ٹریننگ نے انہیں نیشنل چیمپیئن بنایا۔
ان کے مطابق ’باکسنگ ایک سخت کھیل ہے، اس کے لیے روزانہ محنت، صحت مند غذا اور جنک فوڈ سے پرہیز ضروری ہوتا ہے۔ نیشنل چیمپیئن بننے کے لیے میں نے بہت سی ذاتی مصروفیات ترک کیں، خاندان کی تقریبات اور دوستوں کی محفلیں چھوڑنا آسان نہیں تھا، لیکن مقصد بڑا ہو تو یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘
علیشبا کے مطابق انہیں دیکھ کر کئی لڑکیاں باکسنگ کی طرف آئی ہیں۔
ان کے مطابق ’یہ سچ ہے کہ باکسنگ کو مردوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے، لیکن خواتین اگر ہمت اور حوصلے کے ساتھ آئیں تو یہ کھیل انہیں اعتماد، فٹنس اور مضبوط شخصیت دیتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حفصہ نوید نے بھی اپنی کامیابی کا کریڈٹ اپنے کوچز کو دیتے ہوئے کہا: ’کسی بھی ٹائٹل کے پیچھے بہت محنت ہوتی ہے۔ سر رضوان اللہ خان اور سر خضران اللہ خان نے مجھے یہاں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خواتین عام زندگی میں بھی کئی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں، اور کھیل انہیں مضبوط بناتا ہے۔ ان کے مطابق ’جب خواتین کھیلوں میں آتی ہیں تو وہ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنا سیکھ لیتی ہیں۔‘
انہوں نے لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ فٹ رہنے کے لیے کھیلوں کا انتخاب کریں اور اپنے والدین اور ملک کا نام روشن کریں۔
عثمان باکسنگ کلب کے کوچ خضران اللہ خان نے بتایا کہ ان کی اکیڈمی کو تین سے ساڑھے تین سال ہو چکے ہیں، اور اس دوران ان کے تین کھلاڑی قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھا چکے ہیں۔
ان کے مطابق ’نیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ 2026 میں ملک بھر سے 200 سے زائد کھلاڑی شریک تھے، اس کے باوجود ہماری اکیڈمی نے مجموعی طور پر سات میڈلز جیتے۔ یہ ہمارے پودے ہیں، جیسے جیسے یہ بڑے ہوں گے، نتائج مزید بہتر ہوں گے۔‘