افغانستان میں طویل عرصے سے مشکلات کا شکار 'افغان کک باکسنگ' کے لیے ایک نیا باب کھل گیا جب انٹرنیشنل کک باکسنگ فیڈریشن نے افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسے مستقل رکنیت دے دی ہے۔
کابل سے جاری ایک بیان کے مطابق محمد شیر ہاشمی کو فیڈریشن کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں سے افغان کک باکسنگ فیڈریشن بین الاقوامی سطح پر باضابطہ رکنیت سے محروم تھی، جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کو نہ صرف فنڈنگ اور سہولیات کی کمی کا سامنا رہا بلکہ وہ اکثر بین الاقوامی مقابلوں اور غیر ملکی دوروں سے بھی محروم رہے۔
افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن دراصل افغانستان میں کک باکسنگ کے کھیل کی مرکزی اور باضابطہ نگران تنظیم ہے، جو اس کھیل کے فروغ، کھلاڑیوں کی تربیت اور قومی و صوبائی سطح پر مقابلوں کے انعقاد کی ذمہ دار ہے۔
یہ فیڈریشن جنرل ڈائریکٹوریٹ آف اولمپک، فزیکل ایجوکیشن اینڈ سپورٹس کے تحت کام کرتی ہے، جس کے باعث اسے سرکاری سطح پر انتظامی حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی رکنیت طویل عرصے تک معطل رہی، تاہم اس کے باوجود فیڈریشن نے ملکی سطح پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
گذشتہ چند برسوں میں افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن نے اپنی فعالیت کو منظم انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ ہر سال قومی سطح پر سلیکشن چیمپئن شپ منعقد کی جاتی رہی، جن میں افغانستان کے تیس سے زائد صوبوں کے کھلاڑی شریک ہوتے ہیں۔
دسمبر 2025 میں کابل میں منعقد ہونے والی 12ویں نیشنل کک باکسنگ سلیکشن چیمپئن شپ میں 180 کھلاڑیوں کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ یہ کھیل ملک بھر میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ اسی تسلسل میں جنوری 2026 کے آغاز میں منعقد ہونے والے قومی ٹورنامنٹ میں صوبہ سمنگان نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جس نے صوبائی سطح پر بھی مسابقتی ماحول کو اجاگر کیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی افغان کک باکسنگ ٹیم مکمل طور پر غیر حاضر نہیں رہی۔ محدود وسائل کے باوجود افغان کھلاڑی مختلف مواقع پر جرمنی میں ہونے والی ڈبلیو اے کے او (WAKO) ورلڈ چیمپئن شپ اور ایران میں منعقدہ ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان شرکتوں کی حیثیت مستقل اور ادارہ جاتی نہیں تھی، جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی فیڈریشنز میں باضابطہ رکنیت کا فقدان تھا۔
اسی پس منظر میں جنوری 2026 میں افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن کو انٹرنیشنل کک باکسنگ فیڈریشن (IKF) کی مستقل رکنیت کا ملنا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا ہے۔ آئی کے ایف، جو 1992 میں قائم ہوئی اور جس کا ہیڈ کوارٹر نیو کیسل، کیلیفورنیا (امریکا) میں واقع ہے، دنیا بھر میں کک باکسنگ اور 'موئے تھائی' کے کھیلوں کو منظم کرنے والی بڑی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ ادارہ شوقیہ اور پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے محفوظ اور منصفانہ قوانین مرتب کرتا ہے، سالانہ دو ہزار سے زائد مقابلوں کی منظوری دیتا اور IKF ورلڈ کلاسک جیسے عالمی شہرت یافتہ ایونٹس کا انعقاد کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے ادارے کی رکنیت حاصل ہونا افغان کک باکسنگ کے لیے بین الاقوامی سطح پر مستقل شرکت کی راہ ہموار کرتا ہے۔
افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن کو حکومتی سرپرستی حاصل رہی، جس کے نتیجے میں اسے قانونی اور انتظامی استحکام ملا اور وہ بین الاقوامی تنظیموں سے باضابطہ رابطہ کرنے کے قابل ہوئی۔ کھلاڑیوں کے بیرون ملک دوروں، ویزوں کے حصول اور ایران و جرمنی جیسے ممالک میں ٹورنامنٹس میں شرکت کے لیے مالی اور لاجسٹک سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔
اسی طرح کابل اور دیگر صوبوں میں مسلسل قومی مقابلوں کا انعقاد، خصوصاً دسمبر 2025 کی بڑی چیمپئن شپ آئی کے ایف کے لیے اس بات کا عملی ثبوت بنا کہ افغان فیڈریشن فعال، منظم اور بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کر رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کے حکام اور نیشنل اولمپک کمیٹی نے عالمی کھیلوں کی تنظیموں سے رابطے برقرار رکھے اور افغان کھلاڑیوں کے لیے بین الاقوامی دروازے کھلے رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ مختلف صوبوں میں تربیتی کیمپوں کی اجازت بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ رہی، تاکہ کھلاڑی آئی کے ایف کے معیار پر پورا اتر سکیں۔
یوں جنوری 2026 میں افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن کو آئی کے ایف کی باضابطہ رکنیت ملنا محض ایک انتظامی کامیابی نہیں، بلکہ دو دہائیوں پر محیط محرومی کے بعد افغان نوجوانوں کے لیے عالمی کھیلوں کے میدان میں ایک نئی امید کی علامت ہے۔