ایران جنگ کے اثرات: تیل کی قیمتیں 30 فیصد بڑھ گئیں

ایران کی جانب سے تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد گذشتہ ہفتے کی طرح دونوں اہم آئل بینچ مارک دوبارہ بلند ہو گئے۔

آٹھ مارچ 2026 کو تہران کے شمال مغربی علاقے میں واقع شہرَان آئل ریفائنری پر رات کے وقت ہونے والے فضائی حملے کے بعد لگنے والی آگ سے اٹھتا دھواں ایرانی سول ڈیفنس کے اہلکار دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی)

ایشیائی سٹاک مارکیٹس پیر کو شدید مندی کا شکار ہو کر گر گئیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی پر خدشات پیدا ہو گئے اور تیل کی قیمتیں بھی 30 فیصد تک بڑھ گئیں۔

اے ایف پی کے مطابق سرمایہ کار، جو پہلے ہی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اخراجات کے حوالے سے پریشان تھے، نے مارکیٹ سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا کیونکہ خام تیل کی قیمتیں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اصرار کہ صرف ایران کی ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ سے ہی جنگ ختم ہو سکتی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں میں مزید خدشات پیدا ہوئے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کے بعد گذشتہ ہفتے کی طرح دونوں اہم آئل بینچ مارک دوبارہ بلند ہو گئے۔

امریکی تیل کی نمایاں مارکیٹ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 30 فیصد بڑھ کر 118.88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ برینٹ کی قیمت 28 فیصد بڑھ کر 118.73 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

یہ ایران جنگ کے آغازکے بعد  ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 75 فیصد اور برینٹ کی قیمت 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔

جنوبی عراق اور شمالی خود مختار کردستان کے علاقوں میں امریکی تیل کی تنصیبات پر حملے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث ایک امریکی آئل فیلڈ بند ہو گیا جبکہ متحدہ عرب امارات اور کویت نے بھی اپنی پیداوار کم کرنا شروع کر دی۔

یہ صورت حال آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کے بند ہونے کے بعد سامنے آئی ہے جہاں سے دنیا کے خام تیل اور گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

جاپان کے اہم سٹاک انڈیکس Nikkei 225 کے ابتدائی کاروبار میں تقریباً 7 فیصد تک گرنے کے بعد دیگر ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں بھی نمایاں مندی دیکھی گئی۔

دوسری جانب سعودی عرب نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے عرب ممالک پر حملے جاری رکھے تو اسے ’سب سے بڑا نقصان‘ اٹھانا پڑے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب کی ایک بڑی آئل فیلڈ پر بظاہر ڈرون حملے کی اطلاعات آئیں۔

ابوظبی میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ جی 7 ممالک توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اپنے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر استعمال کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ بنگلہ دیش نے توانائی بچانے کے لیے جامعات بند کر دی ہیں جبکہ جنوبی کوریا نے پہلی بار تیل کی قیمتوں پر حد مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے تصدیق کی ہے کہ جنگی صورتحال کے دوران دو انڈین ملاح ہلاک ہو گئے ہیں۔

مجموعی طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سفارتی صورتحال کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں پہلے ہی پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے کا اضافہ کیا جا چکا ہے جس کے بعد نئی قیمت 321 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہو گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحرین کی سرکاری توانائی کمپنی کی جانب سے فورس میجور کا اعلان

بحرین کی سرکاری توانائی کمپنی باپکو نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے وہ اپنی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے بعد وہ فورس میجور کا اعلان کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ’باپکو اس کے ذریعے اپنی گروپ آپریشنز پر فورس میجور نافذ کرنے کا نوٹس دیتی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری علاقائی تنازعے اور اس کی ریفائنری کمپلیکس پر حالیہ حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔‘

فورس میجور ایک قانونی اصطلاح ہے جس کے مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی ادارہ یا کمپنی غیر متوقع حالات یا قدرتی آفات کی وجہ سے اپنے معاہدوں سے عارضی طور پر دست بردار ہو جاتی ہے۔

باپکو کا شمار مشرقِ وسطی کے تیل صاف کرنے والے بڑے کارخانوں میں ہوتا ہے اور یہ روزانہ تین لاکھ 80 ہزار تیل صاف کر سکتی ہے۔ یہ ڈیزل اور جیٹ ایندھن بھی ایکسپورٹ کرتی ہے۔

باپکو کی جانب سے معاہدوں سے دست برداری سے تیل کی قیمتیں مزید چڑھنے کا خدشہ ہے۔ پیر کو تیل کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی جو پچھلے چار سال میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

اس کی وجہ سے پاکستان سمیت متعدد ملکوں کی سٹاک مارکیٹس کریش کر گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا