فواد خان اور ماہرہ خان کی فلم ’نیلوفر‘کیا توقعات پر پورا اتری، اس کا جواب اتنا سادہ نہیں کیونکہ یہ دو بڑے نام ہوں جو ناصرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے سپر سٹار ہیں، تو اس فلم کی کامیابی سے روکنے میں کیا چیز مانع آسکتی ہے۔
لیکن کسی بھی فلم کی تیاری میں سب سے اہم کردار ہدایت کار کا ہوتا ہے جس کا وژن فلم کی کہانی کو کاغذ سے سکرین پر منتقل کرتا ہے۔ تاہم اس فلم میں ہدایت کار بہت کمزور نظر آئے جہاں وہ کہانی کو پردے پر منتقل کرنے میں یا تو کئی صفحات پھاڑ بیٹھے یا فلمایا بھی تو ان لمحات کو ایڈیٹنگ مشین میں ضائع کردیا۔
نیلوفر (ماہرہ خان) بصارت سے محروم ایک لڑکی ہے، جس کی تاریک زندگی میں ایک مرد منصور علی خان (فواد خان) آتا ہے اور اُسے اپنا وجود مکمل لگنے لگتا ہے۔ منصور علی خان ایک مصنف ہے جس کی تحریریں عالمی شہرت حاصل کرچکی ہیں۔
یہ فلم صرف ایک شہر لاہور میں فلمائی گئی ہے اور شہر کے مختلف گوشوں اور دریچوں کی خوبصورتی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے اور کہیں کہیں یہ اچھا بھی لگتا ہے مگر کہیں زبردستی بھی محسوس ہوتا ہے، جیسے لاہور کے شاہی قلعے کے سین فلم میں شامل نہیں بلکہ ٹھونسے گئے ہیں۔
اداکاری کی بات کریں تو ماہرہ خان نے نیلوفر کے کردار میں ثابت کیا ہے کہ وہ صرف اچھی نہیں بلکہ بےمثال اداکارہ ہیں۔ انہوں نے جس طرح ایک نابینا لڑکی کے کردار میں خود کو ڈھالا، جس طرح اسے پیش کیا، اس سے وہ بلاشبہ اب عظیم فنکاروں کی صف میں شامل ہو چکی ہیں۔
اداکاری کو آنکھوں کا کھیل کہتے ہیں، پھر ایک لڑکی جسے دکھائی نہیں دیتا، اس کا چلنا پھرنا، بات کرتے ہوئے دوسری جانب دیکھنا، ماہرہ نے اپنے ہاتھوں کی حرکات سے کئی سین میں جان ڈال دی، خاص کر ان کے ہاتھوں کے ارتعاش نے کئی مناظر کو حقیقت کا رنگ دے دیا۔
ماہرہ، بطور نیلوفر مکالمے معصوم انداز میں ادا کرتی ہیں، اپنی بات کہنا، دوسرے کی بات سننا، اس دوران بطور نیلوفر، ماہرہ کا انداز بہت حقیقی تھا اور اس پوری فلم میں جہاں ماہرہ خان سکرین پر نظر آئیں، انہوں نے اپنے سامنے کسی کو ٹکنے نہیں دیا۔
دوسری جانب یہ فلم منصور علی خان یا فواد خان کی ہے، کہانی شروع ان سے اور ان پر ہی ختم ہوتی ہے۔
فلم میں منصور علی خان کا کردار، جیسے فواد خان ہی کا ہمزاد ہو۔ اس کی مسکراہٹ، اس کا ہلکا سا طنزیہ انداز، اس کی مسکراتی شرارتی آنکھیں، اور بار بار کنی کترا جانے کی عادت، یہ سب خصوصیات فواد خان کی اپنی ہیں۔ جو فواد خان کو جانتے ہیں، ان سے مل چکے ہیں، وہ بتا سکتے ہیں۔ کیونکہ اس فلم کے پروڈیوسر فواد خان ہیں، ممکن ہے کہ کئی مرتبہ ان پر ان کے کردار سے زیادہ پروڈیوسر حاوی رہا ہو۔
فواد خان نے پوری کوشش یہی کی ہے کہ وہ اپنی شخصیت کی فطری کشش سے کام چلائیں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے، خاص کر ماہرہ خان کے ساتھ ہر سین میں انہوں نے ماہرہ کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
جہاں جہاں منصور علی خان آتا ہے وہاں پرانی چیزیں نظر آتی ہیں، یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسے انٹیک چیزیں پسند ہیں لیکن کبھی کھل کر اس بارے میں بتایا بھی نہیں۔
نیلوفر کو سینیما میں دیکھنے کی کشش صرف اور صرف ماہرہ فواد کا رومانس تھا اور وہ نظر بھی آیا، دونوں کی کیمسٹری اچھی تھی اور جہاں جہاں رومانس آتا ہے وہ دیکھنے والوں کے چہرے پر ہلکا سا تبسم ضرور بکیھرتا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس لیے ماہرہ اور فواد کے پرستاروں کے لیے یہ فلم دیکھنا لازمی ہے لیکن کمی ہے تو ان پر فلمائے اچھے گانے کی، فلم میں ایک بھی گانا ان پر نہیں ہے، تمام گانے پس منظر میں چل رہے ہیں۔
فلم کی موسیقی یقیناً قابل ذکر ہے۔ ذیشان حیدر کا ’تو میری‘ بہت عمدہ گانا ہے، یہ فلم کے رویے کے ساتھ میل کھاتا ہے، اسی طرح ’سوچا نہیں‘ بھی ایک سادہ سا رومانوی گانا ہے جو سرور سے بھرا ہے۔
انٹرول تک فلم کی کہانی اگرچہ کچھ سست لیکن نسبتاً بہتر جارہی تھی لیکن اس کے بعد کشمکش ڈالنے کے چکر میں جب ایک ٹی وی شو سے کہانی میں تنازع ڈالنے کی کوشش کی گئی، کہانی پہلے لڑکھڑائی، اس کے بعد ڈگمگائی اور پھر دھڑام سے سر کے بل گرگئی۔
اس ٹی وی شو نے ’نیلوفر‘ کے ساتھ وہی کیا ہے جو فلم ’زندگی کتنی حسین ہے‘ میں مارننگ شو نے کیا تھا، یا فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ میں گیم شو ڈال کر کیا گیا تھا یعنی کہانی کو ڈبو دیا۔ ان دونوں میں کہیں ٹی وی شو کی ضرورت بھی تھی، یہاں اس کی بالکل تُک نہیں تھی۔
فلم کا سب سے بڑا مسئلہ ادھوری کہانی، نامکمل کردار اور ایڈیٹنگ کی فاش غلطیاں ہیں۔ معلومات اتنی تہوں میں چھپی ہیں کہ عام ناظر کے لیے سمجھنا مشکل ہے۔ کئی جگہ ربط ٹوٹا ہوا محسوس ہوا اور ایک دو سین تو وقت سے پہلے ہی آگئے۔
تکنیکی اعتبار سے یہ فلم بہت کمزور ہے، فریمنگ کے شدید مسائل ہے، کچھ مناظر غیر ضروری طور پر دھندلے اور تکلیف دہ حد تک بے تکے ہیں۔
تکنیکی اعتبار سے فریمنگ کے مسائل اور غیر ضروری دھندلے مناظر تکلیف دہ تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ فلم اتنی بار کانٹ چھانٹ کے مرحلے سے گزری ہے کہ تخلیق پر بیزاری کا عنصر غالب آگیا ہے۔
مدیحہ امام کا کردار محدود تھا اور اسے محبت کی تکون بنانے کی ناکام کوشش میں ضائع کیا گیا۔ عتیقہ اوڈھو اور بہروز سبزواری کی شمولیت محض ڈرامہ ’ہمسفر‘ کی یاد دلانے کی شعوری کاوش لگی۔
مکالموں میں ’انت‘ اور ’شوبھا‘ جیسے ہندی الفاظ کا استعمال اور گرائمر کی غلطیاں (جیسے ’بولا‘ بمقابلہ ’کہا‘) کھٹکتی رہیں۔
حتمی رائے ایک نابینا لڑکی کا ’فلیش بیک‘ دکھانا ہدایت کار کی منطق پر سوالیہ نشان ہے۔ مجموعی طور پر مصنف اور ہدایت کار عمار رسول نے دو بڑے سپر سٹارز کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
یہ فلم صرف ماہرہ خان کی وجہ سے تھری سٹارز کی حق دار ہے (جبکہ ماہرہ کی ذات کے لیے فائیو سٹارز ہیں)۔