پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن کے قیام کے لیے تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں اپنی فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ’حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطینی مزاحمتی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش‘ کا حصہ نہیں بنے گا۔
امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے غزہ امن معاہدے کا سب سے اہم جزو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کا قیام ہے، جس میں بنیادی طور پر مسلمان اکثریتی ممالک کی افواج شامل ہوں گی۔
فورس کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا، انسانی امداد کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانا اور غزہ میں انتظامی ڈھانچے کے فوری استحکام میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کا دفتر خارجہ کہہ چکا ہے کہ ’پاکستان بھی اس فورس کا حصہ بننے کا جائزہ لے رہا ہے تاہم معاملات ابھی ابتدائی مرحلے پر ہیں اور اس بارے میں ابھی کافی کچھ طے ہونا باقی ہے۔‘
جبکہ پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف رواں ماہ کے آغاز میں ایک بریفنگ کے دوران کہہ چکے ہیں کہ ’غزہ میں پاکستانی افواج جائیں گی یا نہیں یہ ہمارا فیصلہ نہیں، فوج کے فلسطین بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمان نے کرنا ہے۔‘
اسلام آباد میں ہفتے کو میڈیا گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس بارے میں بات کی اور کہا کہ ’انڈونیشیا نے بھی فوج غزہ میں بھیجنے کا عندیہ دیا تھا اور پاکستان نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔‘
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ’پھر یہ شوشا آیا کہ یہ انرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس حماس کو غیر مسلح کرے گی۔ ہم اس کے لیے تیار نہیں، یہ ہمارا کام نہیں یہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا کام امن کا قائم رکھنا ہے، امن نافذ کرنا نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم صاحب نے فیلڈ مارشل سے مشاورت کے بعد اصول طور پر اعلان کیا ہے کہ ہم فورس دیں گے لیکن اس کا ٹی او آر اور مینڈیٹ کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک یہ فیصلہ بھی نہیں ہو سکتا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ ان کی خام خیالی ہے کہ چیزیں ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔ ہم فوجی ایکشن کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی ٹھیک نہیں ہے کہ بھائی کے گھر جا کر اور اندر جا کر گھس کر ماریں اور ان عناصر کو نکالیں۔ نکالنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر ہم انڈیا کو سبق سکھا سکتے ہیں تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلمان اور غیر مسلمان اکٹھے ہو جائیں گے۔‘
افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے افغانستان کی قیادت سے کہا تھا کہ آپ نے مسئلہ حل نہ کیا تو یہ آپ کے لیے بھی مصیبت بن جائیں گے اور وہ وقت دور نہیں ہے۔ ان کو اب اپنی پالیسی کو تبدیل کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نے خلوص نیت سے افغانستان کے تین دورے کیے اور تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی کیونکہ افغانستان ہمارا ہمسایہ اور مسلمان ملک ہے۔ لیکن جب ہمارے شہیدوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں تو اب ہم کیسے آنکھیں بند رکھیں۔‘
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ’اس رات کلین اپ آپریشن ہونے جا رہا تھا جس سے ان کو سبق آ جاتا لیکن وہ رک گیا۔ لیکن قطر میں ہونے والے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلا۔
’پھر استنبول میں بھی مذاکرات کے کئی ادوار سے کچھ نہیں نکلا۔ وہ وقت دور نہیں جب مسلم اور غیر مسلم اس دہشت گردی کے خلاف اکٹھے ہو جائیں گے۔ کیا بہتر نہیں کہ اس سے پہلے ہی ہم اس خطے کو اس دہشت گردی سے پاک کر لیں۔‘