مشرق وسطیٰ کشیدگی کے تناظر میں سائبر حملوں کی نئی لہر

پاکستان کے سرکاری سیٹلائٹ پر حملہ کر کے دو نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات میں خلل ڈالا گیا۔

اتوار یکم مارچ کو پاکستان کے سرکاری سیٹلائٹ پاک سیٹ (PAKSAT) پر ایک سائبر حملہ رپورٹ ہوا۔ ہیکرز نے دو بڑے پاکستانی نیوز چینلز کی لائیو نشریات میں خلل ڈال کر فوج مخالف پیغامات نشر کیے۔

اس واقعے کے اگلے ہی روز انڈین نیوز نیٹ ورک اے بی پی چینل کی نشریات ہیک کر کے پاکستان فوج کے حق میں ویڈیوز نشر کر دی گئیں۔ اسی دوران اسرائیلی میڈیا کے کچھ چینلز بھی ہیک کیے گئے جہاں فلسطین کے حق میں پیغامات چلائے گئے۔

اگرچہ پاکستان حکومت نے پاک سیٹ پر ہونے والے سائبر حملے کی باضابطہ تکنیکی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی، تاہم ہیکرز کے نشر کیے گئے پیغامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کارروائی جغرافیائی و سیاسی محرکات سے جڑی ہو سکتی ہے۔

نیوز چینلز کی ہیکنگ کو محض ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے جاری مشرقِ وسطیٰ بحران کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جدید جنگی حکمت عملی میں سائبر آپریشنز کو عسکری منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جا چکا ہے اور انہیں اکثر فورس ملٹی پلائر کہا جاتا ہے، یعنی ایسی صلاحیت جو روایتی فوجی کارروائیوں کی اثر پذیری کو بڑھا دیتی ہے۔

28 فروری کو اسرائیلی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑا مربوط سائبر حملہ کیا، جس میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (DDoS) حملے اور حساس نظاموں میں گہری دراندازی شامل تھی۔

جنگ کے دوران کسی بھی ملک کے مواصلاتی نظام یا کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو متاثر کرنے کا ایک واضح مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن کی جوابی کارروائی کو یا تو تاخیر کا شکار کر دیا جائے یا اسے مکمل طور پر متاثر کر دیا جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران میں ابتدائی دھماکوں کے فوراً بعد شہریوں کو موبائل فون پر ایک ہیک شدہ نماز کے اوقات بتانے والی ایپ کے ذریعے ہنگامی نوعیت کے مشاورتی پیغامات بھی موصول ہوئے۔

تنازعات میں سائبر کردار کیا ہے؟

یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، خاص طور پر بڑی طاقتیں، سائبر آپریشنز کو اپنی فوجی حکمت عملی اور دفاعی نظریے کا حصہ بنا چکی ہیں۔ جنگ کے دوران سائبر صلاحیتیں ایک فورس ملٹی پلائر کے طور پر کام کرتی ہیں اور روایتی یا عسکری کارروائیوں کی تکمیل کرتی ہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ کو اکثر پہلی ایسی بڑی جنگ قرار دیا جاتا ہے جہاں سائبر حملوں کا وسیع پیمانے پر استعمال دیکھا گیا۔

سائبر آپریشنز کی افادیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کئی بڑی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ امن کے زمانے میں بھی وہ براہِ راست فوجی طاقت استعمال کیے بغیر سائبر دراندازی کے ذریعے اپنے قومی سلامتی کے مفادات حاصل کر سکتی ہیں۔

اس کی ایک نمایاں مثال 2010 میں سامنے آنے والا سٹکس نیٹ (Stuxnet) حملہ ہے، جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس سائبر حملے کے ذریعے بغیر کوئی گولی چلائے ایران کی یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز کی رفتار کو سست کر دیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مستقبل کی جنگیں اور سائبر ہتھیار

ماہرین کے مطابق آنے والے تنازعات میں جدید اور پیچیدہ سائبر صلاحیتوں کا استعمال مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری سمجھا جاتا ہے کہ تنازعے میں شامل ریاستیں اقوام متحدہ کی جانب سے طے کردہ سائبر سپیس میں ذمہ دار ریاستی رویے کے 11 اصولوں کی پابندی کریں۔

نماز کے اوقات بتانے والی ایپ کی ہیکنگ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ سائبر سکیورٹی صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی ایک سنجیدہ معاملہ بن چکا ہے۔

اسی لیے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انفرادی سطح پر بھی ڈیٹا کے تحفظ اور محفوظ سائبر عادات اپنانا نہایت ضروری ہے تاکہ ممکنہ سائبر خطرات سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی