کیا جماعت اسلامی سے یہ درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے تربیتی نصاب میں مولانا فضل الرحمن کو ایک مضمون کے طور پر شامل کر لے اور مرکزی قیادت کو پابند کیا جائے کہ دن میں دو بار اس مضمون کا مطالعہ کرے تا کہ اسے معلوم ہو، سیاست کیا ہوتی ہےاور سیاسی بصیرت کسے کہتے ہیں؟
کل امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن مولانا فضل الرحمن سے جا کر ملےاور آج ایرانی سفیر اپنے وفد کے ساتھ مولانا کے گھر جا پہنچے ۔ قومی سیاست تو مولانا کے کوچہ جاناں کے چکر کاٹتی ہی تھی ، اب بین الاقوامی سیاست بھی مائل بہ کرم ہے ۔ نہ داخلی سیاست کے آنگن میں مولانا کے بغیر چراغاں ہو پاتا ہے نہ عالمی سیاست کے کردار مولانا کو نظر انداز کر پاتے ہیں۔ معاملہ کیا ہے؟
مولانا کی سیاست کا حجم ہی کتنا ہے؟ ان کی جماعت معروف معنوں میں قومی جماعت بھی نہیں ہے۔ ووٹ بنک بھی معمولی سا ہے۔ حلقہ انتخاب بھی چند شہروں تک محدود ہے۔ ووٹ بنک بھی کتنا ہے؟
2024 کے الیکشن میں تحریک لبیک سے بھی سات لاکھ کم۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں آس پاس نہ کوئی نشست ہے نہ کوئی حلقہ انتخاب۔ سندھ اسمبلی میں بھی ان کی کوئی نشست نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کا کمال دیکھیے قومی سیاست ان کے بغیر پھیکی ہے۔
وہ جس پلڑے میں وزن ڈال دیں، وہ بھاری ہے۔ وہ کسی نکتے پر بگڑ جائیں تو حکومت باجماعت ان کے دربار میں حاضر ہوجاتی ہے۔ وہ احتجاج کی کال دے دیں تو اقتدار کے ایوان لرز جاتے ہیں۔ وہ بات کریں تو پوری توجہ سے سنی جاتی ہے۔ کیا حکومت کیا اپوزیشن، جو آتا ہے ہاتھ باندھے، حد ادب پکارتا آتا ہے۔
دوسری طرف جماعت اسلامی ہے۔ پورے ملک میں اس کا تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ اس جیسا ڈھانچہ شاید ہی کسی جماعت کے پاس ہو۔ الخدمت کے نام سے شان دار ادارہ اس نے کھڑا کیا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ یہ جے یو آئی کی طرح چند اضلاع تک محدود بھی نہیں ہے، اس کا نیٹ ورک بھی پورے ملک ہے، یہ کسی خاص مکتب فکر کی نمائندہ جماعت بھی نہی ہے۔
جے یو آئی کے مقابلے میں اس کے کارکننان زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور جدید علوم پر دسترس رکھتے ہیں۔ لیکن سیاست میں اس کی اگر کوئی حیثیت ہے تو بریکنگ نیوز ہے۔ قومی سیاست میں یہ ایسے ہی ہے جیسے خواب میں واؤ معدولہ۔ ہونا نہ ہونا برابر ہے۔
قومی بیانیے کی تشکیل میں اس کا کوئی کردار ہی نہیں رہا۔ قومی سیاست میں اس کا وجود ایسے ہی ہے جیسے میلے میں کوئی مسکین سا بچہ کونے میں بیٹھ کر دہی کے ساتھ قلچہ کھا رہا ہو۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ جے یو آئی کے پاس آخر ایسا کیا ہے جو جماعت اسلامی کے پاس نہیں؟ اس کا ایک ہی جواب ہے: مولانا فضل الرحمن۔ جے یو آئی کے پاس مولانا ہےاور جماعت کے پاس مولانا نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمن اپنی افتاد طبع میں مکمل سیاست دان ہیں۔ بس یہ ہے کہ ان کا ووٹ بنک مذہبی ہے اس مجبوری سے وہ ایک مذہبی سیاسی رہنما کہلاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے دیو بند اپنی اصل میں ایک سیاسی تحریک تھی۔
جماعت اسلامی کا البتہ تاحال معلوم نہیں، وہ دعوت دین کے لیے داعیان کا ایک گروہ ہے، سماجی اور فلاحی تنظیم ہے یا سیاسی جماعت ہے۔
دوسری سیاسی جماعتوں کا معاملہ ہو تو یہ کہہ دینا آسان ہے کہ وہ ابن الوقت، کرپٹ اور امریکی غلام ہیں جب کہ جماعت اسلامی ابن الوقت نہیں ہے، کرپٹ نہیں اور امریکی غلام نہیں ہے اس لیے ملکی سیاست میں پیچھے رہ گئی۔ لیکن جب تقابل جے یو آئی سے ہو تو یہ طعنہ دینا بھی مشکل ہے۔ کیونکہ مولانا فضل الرحمن کون سے کرپٹ ہیں یا امریکی غلام ہیں۔
غزہ ہو، فلسطین ہو، ایران امریکہ جنگ ہو، موقف تو مولانا کا بھی وہی ہوتا ہے جو جماعت اسلامی کا ہوتا ہے۔ بلکہ قومی سیاست میں تو جہاں شرعی احکام کا معاملہ ہو وہاں سب سے توانا آواز مولانا کی ہوتی ہے۔
پھر اتنا فرق کیوں؟
مولانا کو معلوم ہے سیاست کیا ہے، وہ جانتے ہیں اس کے تقاضے کیا ہیں، وہ جب بات کرتے ہیں تو استدلال سے کرتے ہیں، مطالبہ کرتے ہیں تو حقیقت پسندانہ کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی سیاسی تقاضوں سے بے نیاز رہتی ہے، اس کے بیانیے پر جذباتیت غالب رہتی ہے، اس کے مطالبات پر ایک ناقابل عمل سی مثالیت پسندی غالب رہتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مولانا کے دیگر سیاسی جماعتوں سے نسبتا زیادہ اچھے اور احترام پر مبنی تعلقات ہیں، جماعت اسلامی کی قیادت سب کو تنک مزاجی کے ڈنڈے سے ہانکتی ہے۔ چنانچہ مولانا سیاست کا مرکز و محور بنے نظر آتے ہیں جب کہ جماعت اسلامی سب سے ناراض ناراض سی اور قومی سیاسی دھارے سے کٹی کٹی سی محسوس ہوتی ہے۔ جیسے کوئی سوتیلا ہو، جیسے کوئی اجنبی ہو ۔ جیسے کوئی خواہ مخواہ ہو۔
مذہبی سیاست کا آج قومی سیاسی بیانیے میں کوئی بھرم باقی ہے تو مولانا کی بدولت ہے۔ ورنہ باقی مذہبی قیادت کا حال تو ہمارے سامنے ہے۔ مذہبی سیاست کو مولانا کا شکر گزار ہونا چاہیے اور ان سے سیکھنا چاہیے۔
سوال مگر وہی ہے: کیا جماعت اسلامی سے یہ درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے تربیتی نصاب میں مولانا فضل الرحمن کو ایک مضمون کے طور پر شامل کر لے اور مرکزی قیادت کو پابند کیا جائے کہ دن میں دو بار اس مضمون کا مطالعہ کرے تا کہ اسے معلوم ہو، سیاست کیا ہوتی ہےاور سیاسی بصیرت کسے کہتے ہیں؟
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔