اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، مارچ سے اب تک حملوں میں 3,412 اموات

لبنان میں اتوار کو تاریخی قلعہ شقيف پر اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے بعد فرانس نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کر دیا۔

31 مئی، 2026 کو جنوبی لبنان میں تاریخی قلعے شقيف پر اسرائیلی پرچم لہرا رہا ہے (اے ایف پی)

لبنان میں اتوار کو تاریخی قلعے شقيف پر اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے بعد فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا ’لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور لبنانی علاقے پر اس کے بڑھتے ہوئے قبضے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔‘

فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیوں کے دائرہ کار میں اضافے اور لبنانی سرزمین میں مزید پیش قدمی پر فرانس کو شدید تشویش ہے۔

فرانس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کو روکنے اور لبنان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

اسرائیلی فوج نے آج کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں قلعہ شقيف پر قبضہ کر لیا جو نبطیہ شہر کے قریب کئی دنوں سے جاری شدید اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ہوا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق قلعہ شقيف صلیبی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔

لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اب تک کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 3,412 ہو گئی جبکہ 10,269 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت کے مطابق یہ مجموعی اعداد و شمار دو مارچ سے 31 مئی کے دوران ہونے والی اموات اور زخمیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ 17 اپریل سے لبنان اور اسرائیل میں جنگ بندی نافذ ہے، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

اسرائیل کی تازہ پیش قدمی اس وقت سامنے آئی جب واشنگٹن میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات جاری ہیں اور اگلا دور دو اور تین جون کو امریکی محکمہ خارجہ میں طے ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر جاری کی جس میں اسرائیلی فوجی قلعے کے باہر چلتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے لکھا کہ قلعے پر اسرائیلی پرچم لہرایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس قلعے پر اس سے پہلے 1982 میں قبضہ کیا تھا اور 2000 میں لبنان سے انخلا تک اسے اپنے کنٹرول میں رکھا تھا۔

لبنان کے وزیرِاعظم نواف سلام نے ہفتے کو اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے بعد کہا تھا کہ یہ ’زمین کو جلا دینے کی پالیسی‘ ہے۔

نواف سلام نے مزید کہا کہ ملک ایک ’خطرناک کشیدگی‘ کی طرف بڑھ رہا ہے اور زور دیا کہ ’فوری اور حقیقی جنگ بندی‘ کی ضرورت ہے۔

ٹیلی وژن خطاب میں لبنان کے وزیرِاعظم نواف سلام نے کہا کہ اسرائیل ’قصبوں اور دیہات کو تباہ کر رہا ہے اور ان کے باشندوں کو جلاوطنی پر مجبور کر رہا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا