اسرائیل اور لبنان میں متوقع مذاکرات کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات متوقع ہیں۔

آٹھ  اپریل 2026 کو بیروت کے علاقے تلت الخیاط میں اسرائیلی فضائی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور مقامی افراد جمع ہیں (اے ایف پی)

اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات متوقع ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔

واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں کے تناظر میں ہو رہے ہیں کیوں کہ پاکستان کی درخواست پر ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان کے حوالے سے ابہام پایا جا رہا تھا جہاں پاکستان اور ایران کے مطابق لبنان بھی اس جنگ بندی منصوبے کا حصہ تھا جب کہ اسرائیل نے اسے ماننے سے انکار کرتے ہوئے بدھ کو بیروت میں بدترین حملے کیے جن میں 300 سے زیادہ اموات ہوئیں۔

لبنان کے صدر جوزف اون نے اس صورت حال کے پیش نظر اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی پیشکش کی تاہم ابتدائی طور پر اسرائیل نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

بعد ازاں بدلتی علاقائی صورت حال کے پیش نظر اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے جمعے کو مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔

ذرائع کے مطابق واشگٹن میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات میں دونوں ممالک کے سفیر شرکت کریں گے، جبکہ بعد کے مراحل میں اعلیٰ سطح کے نمائندے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واشنگٹن میں متوقع ملاقات اسرائیل کے سفیر یخیئیل لائٹر اور لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوّض کے درمیان ہوگی۔

بعد کے مراحل میں اسرائیل کی جانب سے رون ڈرمر جبکہ لبنان کی طرف سے سائمن کرم وسیع مذاکرات کی قیادت کر سکتے ہیں، تاہم وہ اگلے ہفتے کی ملاقات میں شامل نہیں ہوں گے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور لبنان کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے فوجی حملے فوری طور پر نہیں روکے گا۔

دوسری جانب لبنان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی بامعنی مذاکرات کے لیے پہلے جنگ بندی ناگزیر ہے۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر حزب اللہ کے کردار پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، تاہم تنظیم اب بھی ایک طاقتور حیثیت رکھتی ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

اسرائیل اور لبنان کے درمیان کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں اور دونوں 1948 سے حالت جنگ میں ہیں۔

ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوتے رہے ہیں، تاہم موجودہ صورت حال کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم زمینی حقائق اور فریقین کے سخت مؤقف اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا