اسرائیل کے لبنان پر 10 منٹ میں 100 سے زائد حملے، 250 سے زائد اموات

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے اموات کے پیمانے کو ’خوفناک‘ قرار دے دیا۔

امریکہ اور ایران کا دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان۔

اسرائیل کا لبنان میں جنگ بندی سے انکار، 10 منٹ میں 100 سے زائد حملے۔

امریکی اور ایرانی وفود کی مذاکرات کے لیے جمعے کو اسلام آباد آمد متوقع۔

لائیو اپ ڈیٹس


لبنان جنگ بندی کا حصہ کبھی تھا ہی نہیں: امریکی نائب صدر

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے لبنان کو جنگ بندی حصہ کبھی قرار نہیں دیا۔

جے ڈی وینس نے ہنگری میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں، اگر ایران ان مذاکرات کو ایک ایسے تنازع میں ٹوٹنے دینا چاہتا ہے جس میں اسے لبنان کے معاملے پر شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا— جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جسے امریکہ نے کبھی بھی جنگ بندی کا حصہ نہیں کہا— تو یہ آخرکار ان کا اپنا فیصلہ ہے۔

’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بے وقوفانہ فیصلہ ہوگا، لیکن یہ ان کی مرضی ہے۔‘


لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 250 سے زائد اموات

لبنان کی سول ڈیفینس سروس نے کہا ہے کہ بدھ کو اسرائیلی حملوں میں 250 سے زائد افراد جان سے گئے اور ایک ہزار سے زخمی ہوئے۔ 

اے ایف پی کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بغیر کسی وارننگ کے ہونے والے اسرائیلی حملوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اموات کے پیمانے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ 

ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان کمزور جنگ بندی جمعرات کو دوسرے دن میں داخل ہو گئی ہے جب کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری کے بعد تہران نے دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

دو ہفتے کی جنگ بندی اور مذاکرات پر اتفاق رائے میں دراڑیں بدھ کو اس وقت تیزی سے سامنے آئیں جب اسرائیل نے پڑوسی ملک لبنان پر اپنے شدید ترین حملے کیے، جن میں گنجان آباد وسطی بیروت بھی شامل ہے۔ یہ حملے مارچ کے شروع میں ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے جنگ میں شامل ہونے کے بعد سے سب سے بڑے تھے۔

اسرائیل  کہا کہ حزب اللہ کے خلاف اس کی جنگ منگل کو رات گئے طے پانے والی امریکہ اور ایران جنگ بندی کا حصہ نہیں تھی۔ اس دلیل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی دہرایا جو پاکستان میں تہران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کرنے والے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا، ’اگر ایران لبنان کے معاملے پر ان مذاکرات کو ناکام ہونے دینا چاہتا ہے جس کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اور جسے امریکہ نے ایک بار بھی جنگ بندی کا حصہ نہیں کہا، تو یہ بالآخر ان کی مرضی ہے۔‘

دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف جنگ بندی کو دھمکی دیتے ہوئے دکھائی دیے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’مذاکرات کی قابل عمل بنیاد‘ کی پہلے ہی خلاف ورزی کی جا چکی ہے، جس سے مزید بات چیت ’غیر معقول‘ ہو گئی ہے۔

قالیباف نے جنگ بندی کے منصوبے کی مبینہ امریکی خلاف ورزیوں کی تین وجوہات گنوائیں جن میں لبنان میں مسلسل حملے، ایک ڈرون کا ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونا، اور ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق سے انکار شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا