یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان

حکومت کو توقع ہے کہ اس سے بچوں میں بڑھتی ہوئی بےچینی اور بےخوابی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

30 اکتوبر 2025 کو لی گئی اس تصویر میں 10 سالہ بیانکا ناوارو مغربی سڈنی میں واقع اپنے گھر میں یوٹیوب استعمال کر رہی ہیں (اے ایف پی) 
 

یونان یکم جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دے گا، جس کا اعلان وزیرِ اعظم کیریاکوس مِتسوتاکِس نے کیا ہے۔

اس اقدام کے پیچھے موجود وجوہات بیان کرتے ہوئے مِتسوتاکِس نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس سے بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی، نیند کے مسائل اور آن لائن پلیٹ فارمز کے نشہ آور ڈیزائن سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

نوجوانوں کے نام ایک ویڈیو پیغام میں مسٹر مِتسوتاکِس نے اس بات پر زور دیا کہ سکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنا ذہن کو آرام کرنے سے روکتا ہے اور بچوں کو مسلسل موازنے اور آن لائن تبصروں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار بناتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی والدین نے اپنے بچوں کی نیند میں دشواری، بڑھتی ہوئی بے چینی اور فون پر ضرورت سے زیادہ وقت گزارنے کی شکایات کی ہیں۔

فروری میں شائع ہونے والے الکو (ALCO) کے ایک رائے عامہ کے سروے کے مطابق، سروے میں شامل تقریباً 80 فیصد افراد نے اس طرح کی پابندی کی حمایت کی۔ یونانی حکومت پہلے ہی سکولوں میں موبائل فونز پر پابندی لگا چکی ہے اور نوعمروں کی سکرین ٹائمنگ کو محدود کرنے کے لیے والدین کے کنٹرول کے پلیٹ فارمز قائم کر چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مِتسوتاکِس نے بیان کیا کہ ’یونان اس طرح کا اقدام اٹھانے والے پہلے ممالک میں شامل ہو گا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’تاہم مجھے یقین ہے کہ یہ آخری ملک نہیں ہو گا۔ ہمارا مقصد یورپی یونین کو بھی اس سمت میں دھکیلنا ہے۔‘

سلووینیا، برطانیہ، آسٹریا اور سپین نے بھی اسی طرح کی پابندیوں پر کام کرنے کا اشارہ دیا ہے، جو آسٹریلیا کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں، جو گذشتہ سال 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے رسائی بلاک کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا تھا۔ گذشتہ ماہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پورے برطانیہ میں سینکڑوں نوعمر نوجوان سوشل میڈیا پر پابندیوں، وقت کی حدود اور کرفیو کے حکومتی تجربے میں حصہ لیں گے، جہاں وزرا بچوں کی آن لائن حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

چھ ہفتوں پر مشتمل اس پائلٹ پروگرام کی قیادت محکمہ برائے سائنس، جدت اور ٹیکنالوجی (DSIT) کر رہا ہے، جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے 300 نوجوان شامل ہیں۔ یہ تجربہ شرکاء کے سوشل میڈیا کے استعمال پر مختلف پابندیوں کی جانچ کر رہا ہے، جس میں محققین ان کے سکول کے کام، نیند کے معمولات اور خاندانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ پروگرام 26 مئی کو ختم ہونے والا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی