انڈیا کے اشتعال انگیز بیان علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ: پاکستان

پاکستان فوج کے ایک سینیئر افسر نے سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ انڈیا کا جارحانہ بیانیہ علاقائی استحکام کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔

پاکستان فوج کے ایک سینیئر افسر نے انڈیا کی بڑھتی ہوئی ملٹریزیشن اور اشتعال انگیز بیانات کو جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی سیاسی رقابت کے باوجود ’مذاکرات کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہونا چاہیے۔‘

گذشتہ سال مئی میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد سے ایٹمی طاقت رکھنے والے پڑوسی ممالک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

مئی کی جنگ میں دونوں ممالک نے کئی روز تک ایک دوسرے پر میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، جنگی طیاروں کے ذریعے حملے اور توپ خانے کا استعمال کیا، جس کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر اپنی سرزمین میں ہونے والی عسکریت پسندانہ کارروائیوں کی حمایت کا الزام بھی عائد کرتے رہتے ہیں۔

انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے ہفتے کو خبردار کیا تھا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو انڈین فوج پاکستان کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

سنگاپور میں ہفتے کو منعقد ہونے والے شنگری لا ڈائیلاگ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فوج کی فرسٹ کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا نے کہا کہ انڈین ’ملٹریزیشن‘، جارحانہ بیانیہ اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بحران سے نمٹنے کے مؤثر طریقہ کار کا فقدان علاقائی استحکام کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا ’جغرافیائی سیاسی رقابت کے ادوار میں بھی مذاکرات کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ تزویراتی استحکام صرف دفاعی صلاحیت ہی سے نہیں بلکہ باہمی رابطے اور مواصلت سے بھی برقرار رہتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اب بھی جوہری دفاعی توازن، روایتی فوجی عدم مساوات، دیرینہ سیاسی کشیدگی اور پاکستان و انڈیا کے درمیان حل طلب علاقائی و نظریاتی تنازعات سے متاثر ہے۔

جنرل ذکریا نے کہا کہ مئی 2025 میں انڈین حملوں کے جواب میں پاکستان کے ردِعمل نے ’جنوبی ایشیا میں جنگ کی گنجائش‘ کے تصور کو غلط ثابت کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا ’تنازعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے روایتی جنگ کے امکانات کو مزید محدود کر دیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ غلط فہمیوں کے خاتمے اور اسلحے کی دوڑ کو روکنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات، شفافیت کے نظام اور ریاستوں کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے ادارہ جاتی سطح پر بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار اور تزویراتی رابطوں کے ذرائع کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جنرل ذکریا نے کہا ’ایسی دنیا میں جہاں فیصلے کرنے کے لیے وقت بہت محدود ہوتا جا رہا ہے، براہ راست رابطے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔‘

شنگری لا ڈائیلاگ ایک سالانہ سربراہی اجلاس ہے جس میں دنیا بھر سے اعلیٰ دفاعی حکام، سینیئر فوجی افسران، سفارت کار، اسلحہ ساز کمپنیاں اور سکیورٹی امور کے ماہرین شرکت کرتے ہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک اس وقت براہ راست مسلح تصادم سے گریز کر رہے ہیں، تاہم کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

پاکستان مسلسل انڈیا پر تنقید کرتا رہا ہے کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پرانے آبی معاہدے کو معطل کر رکھا ہے اور اسلام آباد نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس اقدام کو ’اعلان جنگ‘ تصور کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا