حکومت کی افغان پالیسی ’ناکام‘ ہو چکی: مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلح گروہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن 30 نومبر، 2025 کو مردان میں خطاب کرتے ہوئے (جمعیت علمائے اسلام/فیس بک)

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اتوار کو کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی افغان پالیسی ’ناکام‘ ہو گئی ہے۔

مردان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ 78  برس گزر گئے مگر مستحکم پاکستان افغانستان کو دوست نہ بنا سکا۔ ہمیں ضرورت تھی کہ ہم پاکستان دوست افغانستان بنائیں، ہم نے روس کے خلاف ’جہاد‘ میں ان کا ساتھ دیا، لیکن امریکی جنگ میں ہم نے امریکہ کا ساتھ دیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے افغانستان کو کچھ رعایتیں ضرور دی تھیں۔ آج سارا ملبہ ہم ان پر ڈال رہے ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ وہاں کمزوریاں نہیں، یا ہماری ساری شکایتیں غلط ہیں، لیکن آپ سفارت کاری کے ذریعے اس ملک (افغانستان) کو قریب کیوں نہیں لا سکے، ہماری سفاررت کاری کیوں ناکام ہوئی۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر الزام لگایا کہ ’آپ کو صرف جنگ کا راستہ آتا ہے۔ آپ اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں مسلح جھڑپوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ خطے میں امن کے لیے اپنی پالیسیوں پر دوبارہ غور کریں۔‘

تاہم مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلح گروہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی پاکستان میں مسلح کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن حکومت کی داخلہ، خارجہ اور سیاسی حکمتِ عملیوں پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں یہ مؤقف اختیار کیا جاتا تھا کہ عمران خان مغربی ایجنڈے پر چل رہے ہیں لیکن اب موجودہ حکمران خود اصل مغربی مقاصد کو عملی شکل دے رہے ہیں۔

معاشی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ ملک نہیں رہا جس کے بارے میں عوام نے خواب دیکھے تھے۔ ان کے مطابق آج عوام کے حقوق کو نظرانداز کر کے آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے اور ’فیصلے عوامی خواہشات کے بجائے چند بااثر حلقوں کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے 27 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس قانون سازی کے لیے ارکان پارلیمنٹ کا خریدا جانا شرمناک عمل تھا اور ایک جعلی اکثریت کے ذریعے یہ ترمیم منظور کی گئی۔

عالمی حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’دنیا جانتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات سے بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہایا جا رہا ہے مگر ہمارے وزیراعظم شہباز شریف اسی شخصیت کے لیے امن کے نوبل انعام کی بات کرتے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست