نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو کہا ہے کہ پاکستانی حکومت افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غذائی امداد کی فراہمی کی اجازت دینے کی اقوام متحدہ کی درخواست پر غور کر رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے ہفتے کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اقوام متحدہ نے افغانستان کو ضروری غذائی امداد کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ اجازت دینے کی کوشش کی جائے گی، حالاں کہ پاکستان میں افغانستان کی حمایت سے دہشت گردی کے واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت حال ہمدردی کے لائق نہیں ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے تناؤ کی کیفیت ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند سرحد پار حملے کرتے ہیں اور انہیں انڈین سرپرستی حاصل ہے، لیکن کابل اور نئی دہلی اس کی تردید کرتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں ملکوں کے درمیان پہلے دوحہ اور اس کے بعد استبول میں مذاکرا ت کے بعد اگرچہ دوحہ اور ترکی کی ثالثی میں عارضی امن کا معاہدہ ہوا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے دوطرفہ تجارت رکی ہوئی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا: ’یہ ان کی خام خیالی ہے کہ چیزیں ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔ ہم فوجی ایکشن کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی ٹھیک نہیں ہے کہ بھائی کے گھر جا کر اور اندر جا کر گھس کر ماریں اور ان عناصر کو نکالیں۔ نکالنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر ہم انڈیا کو سبق سکھا سکتے ہیں تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلمان اور غیر مسلم اکٹھے ہو جائیں گے۔‘
افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کے بارے میں نائب وزیراعظم نے کہا: ’میں نے افغانستان کی قیادت سے کہا تھا کہ آپ نے مسئلہ حل نہ کیا تو یہ آپ کے لیے بھی مصیبت بن جائیں گے اور وہ وقت دور نہیں ہے۔ ان کو اب اپنی پالیسی کو تبدیل کرنا چاہیے۔‘