’خونریزی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتی‘: پاکستان کی افغانستان کو تنبیہ

فوج کے ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان نے دوحہ مذاکرات میں اپنی سرزمین کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔

پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سات مئی، 2024 کو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’دہشت گرد گروہوں کی معاونت بند کرے‘ اور ساتھ ہی انہوں نے خبردار بھی کیا کہ ’خونریزی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتی‘۔ 

رواں ہفتے سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں، جس کی ویڈیو ہفتے کو جاری کی گئی، انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں دہشت گردوں کے مراکز موجود ہیں جن میں القاعدہ، داعش اور دیگر تنظیموں کی قیادت شامل ہے جنہیں اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور یہی وسائل پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان حکومت کو قابل تردید شواہد فراہم کیے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے دوحہ مذاکرات میں عالمی برادری سے ’یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن یہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان حکومت کو قابل تصدیق میکانزم کے تحت ایک معاہدے میں شامل ہونا چاہیے اور اگر اس کے لیے کسی تیسرے فریق کی ضرورت پڑتی ہے تو پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ طالبان حکومت اس وقت ایسے غیر ریاستی عناصر کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے جو خطے کے مختلف ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔

تجارت میں رکاوٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی مسائل کا تعلق ہماری قومی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے ہے اس لیے خونریزی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔‘

افغان پناہ گزینوں کی باعزت واپسی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سال 2024 میں مجموعی طور پر تین لاکھ 66 ہزار 704 افراد کو واپس بھیجا گیا جب کہ 2025 میں اب تک نو لاکھ 71 ہزار 604 افغان شہریوں کی واپسی ہوچکی ہے۔

ان کے بقول: ’صرف رواں ماہ میں دو لاکھ 39 ہزار 574 افغان شہری واپس بھیجے گئے ہیں۔‘

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 67 ہزار 23 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 جبکہ بلوچستان میں 53 ہزار 309 آپریشنز کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال 1,873 دہشت گرد مارے گئے جن میں 136 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی پریس کانفرنس میں جی آئی ایس پی آر نے افغانستان میں فضائی حملے کے الزامات کی تردید کی تھی۔

ان کے بقول: ’پاکستان نے افغانستان میں گذشتہ روز کوئی کارروائی نہیں کی، پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہےاس کا باقاعدہ اعلان کرتا ہے۔‘

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 25 نومبر کو ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیوں میں کم از کم 10 افراد مارے گئے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا ’پاکستان فوج نے ایک مقامی شہری کے مکان کو بمباری سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خوست صوبے میں نو بچے (پانچ لڑکے اور چار لڑکیاں) اور ایک خاتون مارے گئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ کنڑ اور پکتیکا کی سرحدی علاقوں کو بھی ’پاکستانی فوج نے فضائی کارروائیوں سے ہدف‘ بنایا جس میں چار مزید شہری زخمی ہوئے۔

بعدازاں ذبیح اللہ مجاہد نے ایک الگ سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ’امارت اسلامیہ اس خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ اپنی فضائی حدود، سرزمین اور لوگوں کا دفاع اس کا جائز حق ہے اور وہ مناسب وقت پر اس کا مناسب جواب دے گی۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان