صدر شی جن پنگ: ماؤ زے تنگ کے بعد چین کے ’سب سے طاقت ور‘ رہنما

چین کے صدر شی جن پنگ تیسری مرتبہ ملک کے پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہو گئے۔

چین کے صدر شی جن پنگ روایت کو توڑتے ہوئے جمعے کو تیسری مرتبہ ملک کے پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہو گئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وہ ماؤ زے تنگ کے بعد ملک کے سب سے طاقت ور رہنما کے طور پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔

چین کی ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ، نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کے تقریباً تین ہزار ارکان نے گریٹ ہال آف پیپل میں 69 سالہ شی جن پنگ کے حق میں متفقہ ووٹ دیا۔ اس انتخاب میں ان کا کوئی حریف نہیں تھا۔

ووٹنگ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور الیکٹرانک گنتی تقریباً 15 منٹ میں مکمل ہوئی۔

2018 میں صدر شی نے ایک شخص کے دو سے زیادہ مرتبہ صدر بننے کی پابندی ختم کر دی تھی۔ اس طرح انہوں نے اپنی تیسری صدارتی مدت کے لیے راہ ہموار کی۔

گذشتہ اکتوبر میں ان کے اختیارات میں پہلے ہی توسیع کر دی گئی تھی، جب انہیں حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری کے طور پر مزید پانچ سال کے لیے دوبارہ مقرر کیا گیا۔

اگلے دو روز میں صدر شی کے منظور کردہ حکام کو تعینات یا منتخب کیا جائے گا، جو کابینہ میں اعلیٰ عہدوں کو پُر کریں گے۔

ان میں وزیر اعظم لی چیانگ بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں توقع ہے کہ انہیں چین کے دوسرے نمبر پر آنے والے رہنما کے طور پر وزیر اعظم نامزد کیا جائے گا۔

اس طرح انہیں دنیا کی دوسری بڑی معیشت کو چلانے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔

چین میں پارلیمنٹ کے ذریعے ریاستی رہنماؤں کا انتخاب کووڈ 19 کی سخت پالیسیوں کے خاتمے اور ملک بھر میں انتہائی تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کے ویرینٹ اومی کرون کی ایک نئی لہر کے تین ماہ بعد ہوا۔

درجنوں سرکردہ رہنماؤں کو چھوڑ کر باقی تمام نمائندوں اور عملے نے ماسک لگا رکھے تھے۔

شی جن پنگ پیر کو سالانہ پارلیمانی اجلاس کے اختتام سے قبل تقریر کریں گے۔

چین کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں کووڈ پابندیوں کی وجہ سے تین سال سے متاثر ہونے والی معیشت اور مغرب کے ساتھ بگڑتے تعلقات شامل ہیں۔

قبل ازیں رواں ہفتے کے دوران صدر شی نے چین کی معیشت کو درپیش مشکلات کے لیے امریکہ اور مغربی ملکوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔

ان کی جانب سے واشنگٹن کے بارے میں براہ راست تبصرہ خلاف معمول بات تھی۔

اگرچہ چین میں صدارتی کردار بڑی حد تک رسمی ہوتا ہے، شی پہلے ہی پارٹی کی طرف سے مرکزی فوجی کمیشن کی سربراہی کے لیے دوبارہ منتخب ہو چکے ہیں اور انہوں نے چینی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے طور پر اپنی تیسری پانچ سالہ مدت کا آغاز کیا ہے۔

چین کی پارلیمنٹ نے 66 سالہ ژاؤ لیجی کو پارلیمنٹ کا نیا چیئرمین اور 68 سالہ ہان زینگ کو نائب صدر بھی منتخب کیا۔

دونوں افراد پولٹ بیورو کی مجلس قائمہ میں شی جن پنگ کی پارٹی لیڈروں کی پچھلی ٹیم میں سے تھے۔

پاکستان کی چینی صدر کو مبارک باد

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے شی جن پنگ کو آئندہ پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہونے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارک پیش کی۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر شی جن پنگ پر چین کے عوام اور پارلیمنٹ کا اعتماد ان کی غیرمعمولی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔

’صدر شی جن پنگ چین کی ترقی اور عوام کی خوش حالی کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں چین دنیا کی سرفہرست معاشی قوت بن چکا ہے اور یہ سفر مسلسل جاری ہے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ صدر شی کی پانچ سالہ مدت صدارت میں دونوں ممالک کی آزمودہ سدا بہار سٹرٹیجک کوآپریشن مزید مضبوط ہو گی۔

 

شی جنگ پنگ کون ہیں؟

اے ایف پی کے مطابق جب شی جن پنگ نے 2012 میں اقتدار سنبھالا تو کچھ مبصرین نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ چین کی تاریخ میں سب سے زیادہ لبرل کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ہوں گے۔

ایسا ان کی کم اہم پروفائل، خاندانی پس منظر اور شاید ایک حد تک گمراہ کن امید کی بنیاد پر ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

10 سال سے زیادہ عرصے کے بعد یہ پیشین گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شی جن پنگ کے بارے میں کتنا کم سمجھا گیا تھا۔

شی نے خود کو اپنے عزائم میں بے رحم، اختلاف رائے کی عدم برداشت، کنٹرول کی خواہش کے ساتھ ظاہر کیا، جو جدید چین میں زندگی کے تقریباً ہر پہلو میں مداخلت کی خواہش رکھتے ہیں۔

وہ بنیادی طور پر ایک مشہور گلوکار کے شوہر کے طور پر جانے پہچانے سے ایسے شخص بن گئے جن کے ظاہری کرشمے اور سیاسی کہانی بیان کرنے کے رجحان نے انہیں ایسی شخصیت بنا دیا جو ماؤ کے بعد سے نہیں دیکھی گئی۔

شی جنگ کی زندگی پر کتاب لکھنے والے الفریڈ ایل چن کا کہنا ہے ’مجھے اس روایتی نقطہ نظر سے اختلاف ہے کہ شی جن پنگ اقتدار کو اقتدار کی خاطر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’میں تو کہوں گا کہ وہ اقتدار کو ایک آلے کے طور پر لیتے ہوئے اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں تاکہ اپنی سوچ کو عملی شکل دے سکیں۔‘

ایک اور سوانح نگار ایڈریان گیگز نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کا نہیں خیال کہ شی جنگ پر دولت سمیٹنے کی خواہش کا غلبہ ہے حالاں کہ عالمی میڈیا کی تحقیقات نے انکشاف کیا کہ ان کے خاندان نے دولت اکٹھی کی۔

گیگز کا کہنا تھا کہ شی کو اس میں دلچسپی نہیں۔ ’وہ چین کے بارے میں ایک سوچ کے مالک ہیں۔ وہ چین کو دنیا کا طاقت ور ترین ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا