چین نے وینزویلا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے بعد تائیوان کو ’کاری ضرب‘ لگانے کی دھمکی دی ہے۔
تجزیہ کاروں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے اور ملک کی تیل کی صنعت پر قبضہ کرنے کی امریکی کارروائی بیجنگ کے حوصلے بلند کر سکتی ہے، جو طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ تائیوان ایک علیحدہ ہو جانے والا چینی صوبہ ہے جسے مرکزی سرزمین کے ساتھ ’دوبارہ یکجا‘ کیا جانا چاہیے۔ تائیوان کی اپنی جمہوری طور پر منتخب حکومت ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
چینی حکومت نے وینزویلا میں ٹرمپ کے اقدامات پر شدید تنقید کی ہے، جب کہ تائیوان پر اپنے دعووں کے ساتھ موازنے کو باضابطہ طور پر مسترد کیا ہے۔
چین کی ریاستی کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان چن بنہوا نے بدھ کو ایک معمول کی بریفنگ میں کہا کہ امریکہ نے ایک خود مختار ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
اخبار چائنہ ڈیلی کے مطابق چن بنہوا نے کہا، ’ہم اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔‘
مبصرین نے وینزویلا میں پیش آنے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تائیوان کے حوالے سے اپنے اختیارات پر بیجنگ کے مؤقف کو مزید سخت کر دے گا، خواہ اسے چین کی اپنی فوجی کارروائی کے جواز کے طور پر سیدھا سیدھا استعمال نہ بھی کیا گیا تو۔
کارنیگی چائنہ کے سینیئر فیلو ٹونی زاؤ کا کہنا ہے کہ ’واشنگٹن کا وینزویلا آپریشن کو قانون نافذ کرنے والی کارروائی قرار دینا تائیوان کے خلاف اپنے منصوبوں کی چین کی اپنی قانونی تشریح سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔‘
برطانیہ کی خارجہ امور کی کمیٹی کی چیئر ایملی تھورن بیری نے بی بی سی ریڈیو فور کے ویسٹ منسٹر آور کو بتایا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ ’کوئی قانونی کارروائی نہیں تھی‘ اور یہ چین اور روس کے حوصلے بلند کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے کا جواز ٹرمپ کے اس نظریے سے پیش کیا گیا کہ شمالی اور جنوبی امریکہ ان کے ’اثر و رسوخ کے دائرے‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ’صدر پوتن غالباً کہیں گے کہ خیر، یوکرین میرے اثر و رسوخ کے دائرے میں ہے۔ آپ کس بات کی شکایت کر رہے ہیں؟ اور شی شاید تائیوان کے بارے میں یہی کہیں گے۔ یہ ایک خوفناک مثال بنتی ہے اور واقعی تشویشناک ہے۔‘
بیجنگ نے باضابطہ طور پر اس موازنے کو مسترد کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے۔
چن بنہوا نے کہا کہ تائیوان کی حیثیت بنیادی طور پر مختلف ہے۔ انہوں نے اسے ’چین کا تائیوان‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مستقبل چینی عوام کا ’اندرونی معاملہ‘ ہے۔
اسی وقت، انہوں نے جزیرے پر آزادی پسند گروپوں کو براہ راست وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا: ’اگر ’تائیوان کی آزادی‘ والی علیحدگی پسند قوتوں نے لاپروائی پر مبنی اقدامات کرنے اور سرخ لکیر عبور کرنے کی جرات کی، تو ہم فیصلہ کن اقدامات کریں گے اور کاری ضرب لگائیں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چین تائیوان کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے، باوجود اس کے کہ 1949 میں چینی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے جزیرے کی اپنی حکومت، فوج اور جمہوری نظام موجود ہے۔ برطانیہ سمیت زیادہ تر مغربی ممالک سفارتی طور پر بیجنگ کو تسلیم کرتے ہیں لیکن صورت حال میں کسی بھی یک طرفہ تبدیلی، خاص طور پر طاقت کے ذریعے، کی مخالفت کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں آبنائے تائیوان میں کشیدگی میں شدت آئی ہے کیوں کہ چین نے جزیرے پر فوجی دباؤ بڑھا دیا ہے اور امریکہ نے تائی پے کے لیے اپنی سیاسی اور فوجی حمایت مضبوط کی ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعے جزیرے کو مرکزی سرزمین کے ساتھ ’دوبارہ یکجا‘ کرنے کے لیے تیار ہیں، جب کہ امریکی خفیہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ چینی فوج 2027 تک حملے کے لیے تیار ہو گی جس میں اب ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔
© The Independent