میں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں: مادورو کا امریکی عدالت میں بیان

مادورو کو ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑی کے ذریعے لایا گیا اور بھاری ہتھیاروں سے لیس قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے حصار میں نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ویزویلا کے صدر نکولس مادورو پانچ جنوری 2026 کو بھاری سکیورٹی میں نیویارک کی عدالت میں پیش (روئٹرز) 

وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو نے پیر کو نیویارک کی عدالت میں منشیات کی دہشت گردی کے الزامات میں صحت جرم سے انکار کر دیا۔ انہیں دو روز قبل کراکس میں ان کی رہائش گاہ پر امریکی افواج نے ایک چھاپے کے دوران پکڑ لیا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق 63 سالہ مادورو نے مین ہیٹن میں وفاقی جج کو بتایا کہ انہیں وینزویلا سے ’اغوا‘ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں بےگناہ ہوں، میں قصوروار نہیں ہوں۔‘

رپورٹس کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اب بھی اپنے ملک کا صدر ہوں۔‘

مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی اسی طرح صحت جرم سے انکار کیا۔

امریکہ میں زیرِ حراست نکولس مادورو پیر کو نیویارک کی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہیں چند روز قبل کراکس میں امریکی فوج کی ایک حیران کن کارروائی میں پکڑ لیا گیا تھا جس نے تیل سے مالا مال ملک پر واشنگٹن کے کنٹرول کی راہ ہموار کر دی ہے۔

63 سالہ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو منشیات کی سمگلنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس جوڑے کو ہفتے کے روز ایک امریکی حملے میں کراکس سے زبردستی پکڑا گیا، جس میں کمانڈوز نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دھاوا بولا جنہیں جنگی طیاروں اور بحری افواج کی مدد حاصل تھی۔

پیر کی صبح مادورو کو ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑی کے ذریعے لایا گیا اور بھاری ہتھیاروں سے لیس قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے حصار میں نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

سب کی نظریں ان تیزی سے بدلتے حالات پر وینزویلا کے ردعمل پر جمی ہیں، اور اتوار کی رات عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے اپنی ابتدائی مزاحمت سے پیچھے ہٹتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کر دی۔

سابق نائب صدر نے کہا: ’ہم امریکی حکومت کو تعاون کے ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔‘

اتوار کو کراکس میں مادورو کے تقریباً دو ہزار حامیوں نے ریلی نکالی، جن میں موٹر سائیکلوں پر سوار رائفل بردار افراد بھی شامل تھے، ہجوم نعرے لگا رہا تھا اور وینزویلا کے جھنڈے لہرا رہا تھا۔

مادورو کی وفادار وینزویلا کی فوج نے اعلان کیا کہ وہ روڈریگز کو تسلیم کرتی ہے اور اس نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وینزویلا میں اموات کی کوئی سرکاری تعداد نہیں بتائی گئی، لیکن وزیر دفاع ولادی میر پیڈرینو لوپیز نے کہا کہ مادورو کی سکیورٹی ٹیم کا ’بڑا حصہ‘ اور اس کے ساتھ ساتھ فوجی اہلکار اور شہری ’بےدردی سے‘ مارے گئے۔

ٹرمپ نے اتوار کی رات کہا کہ امریکہ جنوبی امریکی ملک کا ’انچارج‘ ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا میں انتخابات کے انعقاد کی باتیں ’قبل از وقت‘ ہیں۔

’تیل تک رسائی درکار ہے‘

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ انہیں عبوری رہنما روڈریگز سے کیا چاہیے، تو انہوں نے کہا: ’ہمیں مکمل رسائی چاہیے۔ ہمیں ان کے ملک میں تیل اور دیگر چیزوں تک رسائی کی ضرورت ہے جو ہمیں ان کے ملک کی تعمیر نو کرنے کی میں مددگار ہوں۔‘

وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر ہیں، اور مارکیٹ میں مزید وینزویلا کے خام تیل کی آمد رسد کی زیادتی کے خدشات کو بڑھا سکتی ہے اور قیمتوں پر حالیہ دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے مستقبل کے بارے میں دیگر بڑے سوالات کے ساتھ ساتھ، اس کی تیل کی پیداوار میں کافی اضافہ کرنا آسان، فوری یا سستا نہیں ہو گا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اثرات کا جائزہ لینے کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا سے تیل کے ٹینکروں کو روک کر معاشی لیوریج برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ نے مزید فوجی حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

اگرچہ وینزویلا کے اندر بظاہر کوئی امریکی فوج موجود نہیں، تاہم ساحل کے قریب ایک طیارہ بردار جہاز سمیت بحری بیڑے کی بڑی تعداد موجود ہے۔

اپوزیشن کے سرکردہ رہنما ایڈمنڈو گونزالیز اروتیا نے کہا کہ اگرچہ امریکی مداخلت ’اہم‘ تھی، لیکن سیاسی قیدیوں کی رہائی اور اس اعتراف کے بغیر کہ انہوں نے 2024 کا الیکشن جیتا تھا، یہ ’کافی نہیں‘ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا