صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو دھمکی دی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکہ کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد ملک کی نئی رہنما واشنگٹن کے ساتھ تعاون نہیں کرتی ہیں تو انہیں ’بڑی قیمت‘ ادا کرنا پڑے گی، جبکہ ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگوز نے امریکہ کے ساتھ ’متوازن اور احترام پر مبنی‘ تعلقات کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک پر ضرورت پڑنے پر دوسرے حملے کی بھی دھمکی دی۔
مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگوز نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’ہم امریکہ اور وینزویلا کے درمیان متوازن اور احترام پر مبنی تعلقات کی طرف بڑھنے کو ترجیح سمجھتے ہیں۔
’ہم امریکی حکومت کو تعاون کے ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں جس کا مقصد مشترکہ ترقی کرنا ہے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار ایئر فورس ون پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ کے باقی ارکان ملک کو ’ٹھیک‘ کرنے کی ان کی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے ہیں تو صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکہ وینزویلا پر دوسرا فوجی حملہ کر سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کے ریمارکس سے اندازہ ہوا صدر ٹرمپ میکسیکو، کیوبا اور کوملبیا پر بھی حملے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی اخبار دی اٹلانٹک سے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر (وینزویلا کی) عبوری صدر ڈیلسی روڈریگوز ’وہ نہیں کرتی ہیں جو صحیح ہے، تو وہ بہت بڑی قیمت ادا کرنے جا رہی ہیں، شاید مادورو سے بھی بڑی۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر انڈیا روس کے تیل کے مسئلے پر مدد نہیں کرتا ہے تو ہم اس پر ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری طرف امریکہ کے ہاتھوں پکڑے گئے وینزویلا کے صدر کے 39 سالہ صاحبزادے نکولس مادورو گوئرا نے اپنے ملک کے لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کو کہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے ایک صوتی پیغام میں کہا کہ ’آپ ہمیں گلیوں میں دیکھیں گے، آپ ہمیں لوگوں کے اطراف دیکھیں گے، آپ ہمیں وقار کا جھنڈا لہراتے دیکھیں گے۔‘
امریکی افواج نے ہفتے کو اوائل میں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر حملہ کیا، فوجی اہداف پر بمباری کی اور مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ میں وفاقی منشیات فروشی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے نیویارک پہنچایا۔
امریکی حراست میں موجود وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو آج (پیر کو) نیویارک کے علاقے مین ہٹن کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مادورو کی باقی حکومت کے ساتھ اس وقت تک کام کرنے کے لیے تیار ہے جب تک واشنگٹن کے اہداف، خاص طور پر وینزویلا کے خام تیل کے بے پناہ ذخائر میں امریکی سرمایہ کاری تک رسائی کو ممکن بنانا، پورا ہو جاتا ہے۔
امریکی حملوں کے بعد دارالحکوم کراکس میں سکون تھا، جہا اے ایف کے مطابق رہائشی دکانوں پر کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے اور گذشتہ روز نظر آنے والی نقاب پوش اور بھاری ہتھیاروں سے لیس پولیس غائب ہو گئی تھی۔
وینزویلا کی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ڈیلسی روڈریگز، جو پہلے مادورو کی نائب صدر تھیں، کو قائم مقام صدر کے طور پر تسلیم کیا ہے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ معمول کی زندگی دوبارہ شروع کریں۔
ونزویلا کو کون چلائے گا؟
ابتدائی امریکی کارروائی کی کامیابی کے باوجود ٹرمپ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھئے جا رہے ہیں۔
سینیٹ کے اعلیٰ ڈیموکریٹ، چک شومر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ امریکی ’حیرت اور خوف سے سر کھجاتے ہوئے‘ رہ گئے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ امریکہ وینزویلا کو ’چلائے گا۔‘
انہوں نے دی اٹلانٹک کو بتایا کہ ’وہاں کی تعمیر نو اور حکومت کی تبدیلی، جو بھی آپ اسے کہنا چاہتے ہیں، اس سے بہتر ہے جو آپ کے پاس ابھی ہے۔‘
لیکن سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے اتوار کو اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن تقریباً تین کروڑ آبادی والے جنوبی امریکی ملک میں مکمل حکومت کی تبدیلی یا وہاں جمہوریت کی بحالی کے لیے انتخابات نہیں چاہتا۔
انہوں نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ مادورو کی پوری حکومت کو گرانے کی کوشش کرنے کے بجائے ’ہم ان کے کاموں کی بنیاد پر اندازہ لگانے جا رہے ہیں۔‘
روبیو نے این بی سی کے میٹ دا پریس کو بتایا کہ امریکہ منشیات کے سمگلروں سے لڑ رہا ہے، ’وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’زبردست فائدہ اٹھانے‘ کے لیے وینزویلا کے تیل کی برآمدات کی ناکہ بندی کو نافذ کرنے کے لیے کیریبین میں امریکی بحریہ کی ایک موجودگی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر تک رسائی کو محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وینزویلا میں کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے ہفتے کو کہا تھا کہ ’ہم ملک کو چلانے جا رہے ہیں جب تک کہ منتقلی نہیں ہو سکتی۔‘
انہوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ فوج ’کی موجودگی کا امکان باقی ہے۔
امریکی حملے کے بعد اپنے پہلے ریمارکس میں، ڈیلسی روڈریگوز نے کہا تھا کہ نکولس مادورو ملک کے واحد جائز رہنما ہیں اور یہ کہ ’ہم اپنے قدرتی وسائل کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘
شب بخیر
امریکہ کے زیر حراست وینزویلا کے صدر عدالتی سماعت سے قبل نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں تھے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہتھکڑیاں پہنے مادورو کو امریکی وفاقی ایجنٹ مین ہٹن یو ایس ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کی مدد سے جایا رہے ہیں۔
63 سالہ مادورو کو ’شب بخیر، نیا سال مبارک‘ کہتے سنا گیا۔
اس سے قبل ان کی آنکھوں پر پٹی باندھے اور ہتھکڑی لگائے امریکی بحری جہاز پر محافظوں کے ساتھ تصویر بنوائی گئی تھی۔
مادورو نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک وینزویلا کی ایسے انتخابات کے ذریعے قیادت کی جنہیں وسیع پیمانے پر دھاندلی زدہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے کرشماتی سرپرست ہیوگو شاویز کی موت کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔
جیسے ہی مادورو کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی، جلاوطن وینزویلا کے باشندوں نے میڈرڈ سے سینٹیاگو تک پلازوں میں جھنڈے لہرائے اور جشن منایا۔ تقریباً 80 لاکھ وینزویلا کے باشندے اپنے وطن کی غربت اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
برازیل، چلی، کولمبیا، میکسیکو، یوراگوئے اور سپین نے ایک مشترکہ بیان میں امریکی آپریشن کے ’مسترد‘ اور ’حکومتی کنٹرول یا انتظامیہ یا قدرتی یا سٹریٹجک وسائل کے باہر تخصیص پر کسی بھی کوشش کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔‘
اس بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کو ہونا تھا۔