پاکستان نے اتوار کو ایک بیان میں وینزویلا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کے عوام کی فلاح و بہبود کو بہت اہم سمجھتا ہے۔
اتوار کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان وینزویلا میں جاری پیش رفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ بحران کے خاتمے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور کشیدگی میں کمی لائی جائے۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام تصفیہ طلب معاملات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق حل کیے جانے چاہییں۔
دفتر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں مقیم پاکستانی برادری کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
امریکی سپیشل فورسز نے ہفتے کو ایک کارروائی کرتے ہوئے کارکاس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کے اہلیہ کے ہمراہ پکڑ کر ملک سے باہر منتقل کر دیا تھا۔
مادورو کو ہفتے کی شام امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر لایا گیا، جہاں سے انہیں نیویارک کی جیل منتقل کر دیا گیا۔
مادورو اور وینزویلا کے دیگر حکام کے خلاف 2020 میں منشیات اور دہشت گردی کی سازش کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
ہفتے کو جاری کی گئی ایک نئی چارج شیٹ میں مادورو اور ان کی اہلیہ پر مشتمل حکومت کو ’بدعنوان، غیر قانونی حکومت‘ قرار دیا گیا جو منشیات کی سمگلنگ کے ذریعے امریکہ میں کوکین کی فراہمی کرتی رہی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ مادورو کو وینزویلا کا جائز حکمران تسلیم نہیں کرتا۔
ہفتے کو ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ صدر نکولس مادورو کو ہٹائے جانے کے بعد امریکہ وینزویلا کے معاملات کو چلائے گا۔
تاہم اب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کو اشارہ دیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت میں روزمرہ کی سطح پر کردار ادا نہیں کرے گا، سوائے اس ’آئل قرنطینہ‘ (تیل کی ناکہ بندی) کے نفاذ کے جو پہلے ہی ملک پر لاگو ہے۔
روبیو کے مطابق ٹرمپ کے بیان کو ’غلط سمجھا گیا‘۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ مادورو کے ماتحت رہنماؤں کو، جو اب حکومت چلا رہے ہیں، کچھ وقت دے گا تاکہ دیکھا جاسکے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے جمعے کو فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران وینزویلا کو ’چلانے‘ کے بار بار اعلان نے کئی ڈیموکریٹس میں تشویش پیدا کی۔
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگس نے امریکہ سے مادورو کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں ملک کا جائز حکمران قرار دیا، جس کے بعد وییزویلا کی اعلیٰ عدالت نے انہیں قائم مقام صدر مقرر کر دیا۔
اتوار کو وینزویلا کا دارالحکومت غیر معمولی طور پر پر سکون تھا۔ چند گاڑیاں سڑک پر تھیں جبکہ دکانیں، پٹرول پمپ اور بہت سے کاروبار بند تھے۔
صدارتی محل کے باہر مسلح شہریوں اور فوجیوں نے پہرہ دے رکھا تھا۔