مادورو نیویارک جیل منتقل، وینزویلن عدالت کا نائب صدر کو عہدہ سنبھالنے کا حکم

نکولس مادورو پر ’منشیات کے ذریعے دہشت گردی،‘ کوکین امریکہ سمگل کرنے اور غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔  

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کراکس میں امریکی فوج کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد ہفتے کی شام امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر لایا گیا، جہاں سے انہیں نیویارک کی جیل منتقل کر دیا گیا۔ دوسری جانب وینزیلن عدالت نے نائب صدر کو ’عارضی طور پر‘ عہدہ سنبھالنے کا حکم دیا ہے۔

امریکی فورسز نے ہفتے کو وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے طویل عرصے سے حکمران صدر نکولس مادورو کو معزول کر دیا تھا۔

ریاست نیویارک میں نیشنل گارڈ کی تنصیب پر امریکی حکومت کے طیارے سے اترتے ہی ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے مادورو کو گھیرے میں لے لیا اور انہیں رن وے پر آہستگی سے لے کر آگے بڑھے۔

بائیں بازو کے رہنما کو بعدازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن لے جایا گیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں ان کے منتظر تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی میڈیا کے مطابق 63 سالہ رہنما کو پہلے یو ایس ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر اور پھر بروک لین میں واقع وفاقی جیل میٹروپولیٹن حراستی مرکز لے جایا گیا۔

یہ وہی حراستی مرکز ہے جہاں گذشتہ برس ٹرائل کے دوران امریکی ریپر شان ’ڈیڈی‘ کومز کو رکھا گیا تھا۔

مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں جج کے سامنے پیش کیا جائے گا تاہم اس کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔ ان پر ’منشیات کے ذریعے دہشت گردی،‘ امریکہ میں کوکین سمگل کرنے اور غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب گذشتہ شب ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے اعلان کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس پر نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے لکھا: ’وہ (مادورو اور فلورس) جلد ہی امریکی سرزمین پر امریکی عدالتوں میں امریکی انصاف کے بھرپور غیظ و غضب کا سامنا کریں گے۔

’پورے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے، میں صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے امریکی عوام کی خاطر جوابدہی کا مطالبہ کرنے کی ہمت دکھائی اور ہماری بہادر فوج کا بھی بہت شکریہ جس نے ان دو مبینہ بین الاقوامی منشیات سمگلروں کو پکڑنے کے لیے یہ ناقابل یقین اور انتہائی کامیاب مشن مکمل کیا۔‘

ادھر وینزیلا کی ہائی کورٹ نے ملک کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز کو ’عارضی‘ طور پر عہدہ صدارت سبنھالنے کا حکم دیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اعلیٰ عدالت نے حکم دیا کہ روڈری گیز ’انتظامی تسلسل اور ملک کے ہمہ جہت دفاع کی ضمانت کے لیے، قائم مقام کی حیثیت سے صدارتی دفتر سے وابستہ تمام تر صفات، فرائض اور اختیارات سنبھالیں اور ان کا استعمال کریں۔‘

تاہم ججوں نے مادورو کو مستقل طور پر عہدے سے غیر حاضر قرار دینے سے گریز کیا، کیوں کہ اس فیصلے کی صورت میں 30 دن کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہوتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ جب تک اقتدار کی محفوظ منتقلی ممکن نہیں ہو جاتی، امریکہ وینزویلا کو ’چلائے گا‘۔

 

ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مار-اے-لاگو کلب میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو جمعے کی رات ہونے والی کارروائی میں گرفتار کیا گیا اور انہیں امریکی عدالت کا سامنا کرنا ہو گا۔

ٹرمپ نے کہا ’یہ امریکی تاریخ میں طاقت، مہارت اور کامیابی کا سب سے حیران کن، موثر اور زبردست مظاہرہ تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا کہ امریکی حکام وینزویلا کا کنٹرول سنبھالیں گے۔ ’ہم اس ملک کو چلائیں گے، جب تک ہم ایک محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقال اقتدار نہیں کر لیتے۔ ہم یہ خطرہ نہیں لے سکتے کہ کوئی ایسا شخص وینزویلا کا کنٹرول سنبھال لے جسے عوام کے مفادات کا خیال نہ ہو۔‘

یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ وینزویلا کی نگرانی کیسے کریں گے کیونکہ امریکی فورسز کا ملک پر کوئی عملی کنٹرول نہیں اور مادورو کی حکومت بظاہر فعال ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس کارروائی میں امریکی فضائی، زمینی اور بحری افواج نے حصہ لیا۔

اس موقعے پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے بتایا کہ وینزویلا سے متعلق آپریشن میں 150 سے زائد طیارے شامل تھے اور یہ کارروائی صدر ٹرمپ کے براہِ راست احکامات پر انجام دی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا