پاکستانی وزارت اطلاعات نشریات کے مطابق پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی داعش خراسان کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اتوار کو علی الصبح جاری کیے گئے بیان میں وزارت اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ پاکستان میں حال ہی میں اسلام آباد کی مسجد، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے دھماکے کیے گئے اور اس کے بعد رمضان کے مقدس مہینے میں ہفتے کو باجوڑ میں حملہ کیا گیا۔ ان واقعات کے بعد پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں ’خوارج‘ نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سہولت کاروں کے ایما پر انجام دیں۔
ہفتے کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق تازہ ترین حملہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں کیا گیا جہاں ’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج‘کے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو اہلکار جان سے گئے جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
وزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری ’فتنہ الخوارج‘ اور اس سے منسلک افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان اور داعش خراسان نے بھی قبول کی۔
وزارت اطلاعات کے مطابق: ’پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاک افغان سرحد کے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج (ایف اے کے) کے پاکستانی طالبان اور ان سے منسلک تنظیموں اور آئی ایس کے پی سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر انتہائی درستی کے ساتھ چن کر نشانہ بنایا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت پر بار بار زور دینے کے باوجود کہ وہ دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی آلہ کاروں کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرے، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی بھی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ کوشش کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان عبوری افغان حکومت سے دوبارہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج اور دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے، کیوں کہ پاکستان کے عوام کی حفاظت اور سکیورٹی سب سے اولین ترجیح ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے حصے کے طور پر دیگر ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے وعدوں پر قائم رہے، جو علاقائی اور عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے ایک ناگزیر اقدام ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے رات گئے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں حملے کر کے افغان سرزمین کی خلاف ورزی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہری جان سے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔
افغانستان کے ٹی وی چینل طلوع نیوز کو ذرائع نے کو بتایا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے مبینہ طور پر صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل پر فضائی حملہ کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع بہسود میں اے ایف پی کے ایک صحافی نے حملوں کے بعد لوگوں کو ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے بلڈوزر استعمال کرتے دیکھا۔
ایک افغان سکیورٹی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بہسود میں ایک مکان کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں جان سے جانے والے 17 لوگوں میں 12 بچے اور نوعمر افراد شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ سال اکتوبر میں بھی جھڑپیں ہوئیں تھیں جب پاکستان فوج نے 12 اکتوبر 2025 کو ایک بیان میں کہا تھا کہ گذشتہ رات افغانستان کے ساتھ ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں اس کے 23 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ 29 زخمی ہوئے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان اور انڈیا کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے پاکستان افغانستان سرحد پر بلااشتعال حملہ کیا تھا، جس کا مقصد پاکستان کے سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ دینا تھا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان فوج نے ان حملوں کو بروقت اور فیصلہ کن کارروائی سے پسپا کرتے ہوئے طالبان فورسز اور عسکریت پسندوں کو نقصان پہنچایا۔
بیان کے مطابق پاکستان فوج نے طالبان کی سرحد پار متعدد پوسٹس، کیمپس اور تربیتی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے 21 ٹھکانے عارضی طور پر قبضے میں لیے اور دہشت گرد کیمپ تباہ کر دیے۔
اس سے قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں اپنے نو اہلکاروں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار بھی جان سے گئے ہیں۔
گذشتہ سال اکتوبر میں افغان حکام نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ اس نے دارالحکومت کابل اور ملک کے مشرق میں ایک بازار پر بمباری کی۔ پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
افغان حکام نے اپنے ردعمل میں ان مبینہ حملوں کو ’پاکستان کی غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’افغانستان کو چھیڑنا اچھا نہیں۔‘