اسلام آباد دھماکہ: ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کرلی، جان سے جانے والوں کی نماز جنازہ ادا

اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں گذشتہ روز کے دھماکے میں کم از کم 31 افراد جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز کے دوران مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں جان سے جانے والوں کی نماز جنازہ آج (بروز ہفتہ) ادا کر دی گئی جبکہ حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کر لی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ترلائی میں واقع امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے احاطے میں جمعے کو ایک شخص نے فائرنگ کی، پھر خود کو بم سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 31 افراد جان سے گئے اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے۔

جان سے جانے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ ہفتے کو صبح 10 بجے سیکٹر جی نائن میں واقع جامعہ الصادق اور 11 بجے ترلائی میں ادا کی گئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں مسجد پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

وزیر داخلہ برائے مملکت طلال چوہدری نے جمعے کو ترلائی میں جائے وقوعہ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’یہ واقعہ انتظامیہ کے علم میں دن ایک بج کر 42 منٹ پر آیا۔‘

طلال چوہدری نے بتایا کہ ’یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔ حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا لیکن اس کا افغانستان کتنی مرتبہ جانا ہوا، وہ تفصیلات آ چکی ہیں۔‘

 

طلال چوہدری نے آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ’اس حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھائی بھی شہید ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں۔ اسلام، لسانیت کا نام لے کر مسلمانوں کو مارا نہیں جاتا۔ ہم نے دیگر ممالک کو ثبوت دیا ہے کہ یہ انڈیا سپانسرڈ ہے۔ بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) ہو یا ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کا، انہیں ڈالرز میں پیسے دیے جاتے ہیں۔‘

اسلام آباد طویل عرصے سے کابل پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو شدت پسند گروہوں کو استعمال کی اجازت دیتا ہے، اور نئی دہلی پر یہ الزام ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سرحد پار حملوں کی پشت پناہی کرتا ہے، تاہم افغان اور انڈین حکومتیں ان الزامات کی مسلسل تردید کرتی رہی ہیں۔

انڈیا نے بھی جمعے کو جاری کیے گئے بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا گیا، جبکہ اسلام آباد کی جانب سے عائد کیے گئے الزام کو ’بے بنیاد‘ اور ’بے معنی‘ قرار دیا گیا۔

تاہم طلال چوہدری نے کہا کہ حکام نے ماضی میں بھی ایسے شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کو حراست میں لیا ہے جو دارالحکومت میں پہلے ہونے والے حملوں سے منسلک تھے اور اب بھی انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا: ’یقین رکھیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے سابق حملوں میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو گرفتار کیا گیا اور قانون کے مطابق ان سے نمٹا گیا۔‘ طلال چوہدری نے مزید کہا کہ مسجد میں حملے کے ذمہ داروں کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے مزید کہا: ’اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ 72 گھنٹے میں دی جائے گی جبکہ کچھ متعلقہ افراد بھی پکڑے گئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان