پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اسلامی فوجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی (آئی ایم سی ٹی سی) کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محمد بن سعید المغیدی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
آئی ایم سی ٹی سی کا 17 رکنی وفد 2 سے 6 فروری تک نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ’انتہا پسند عناصر کے دوبارہ انضمام اور بحالی‘ کے موضوع پر ایک ہفتہ کی تربیت کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔
آئی ایم سی ٹی سی 43 ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد ہے جو دسمبر 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا تاکہ مسلم ممالک کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو یکجا کیا جا سکے۔ اس اتحاد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، افغانستان، مصر، اردن، قطر، فلسطین، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک شامل ہیں۔
پیر کی رات جاری ہونے والے ایک بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا، خصوصاً علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ دونوں فریقوں نے باہمی تعاون پر مبنی حکمت عملیوں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور رکن ممالک کے درمیان صلاحیتوں کی تعمیر کے ذریعے ’دہشت گردی اور انتہا پسندی‘ سے نمٹنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلامی دنیا میں استحکام کو فروغ دینے اور انسداد دہشت گردی کے مربوط اقدامات کو فروغ دینے میں آئی ایم سی ٹی سی کے کردار کو سراہا۔
میجر جنرل محمد بن سعید المغیدی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی نمایاں خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کیا اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گی کہ ملاقات میں خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فریقین کے عزم پر زور دیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی ایس پی آر کے الگ بیان میں بتایا گیا کہ لیبیا کے مشرقی حصے کی لیبین نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کے ماحول اور دوطرفہ فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
ائیر چیف نے پاکستان اور لیبیا کے درمیان مضبوط مذہبی اور تاریخی تعلقات، پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری، جدید کاری، ملٹی ڈومین کی صلاحیت کی ترقی، اور مقامی بنانے، اختراعات اور انسانی وسائل کی ترقی پر زور دیا۔
انہوں نے لیبیا کی فضائیہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے پی اے ایف کے عزم کا اعادہ کیا۔
وفد کو نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے تحت پی اے ایف کے مقامی بنانے کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے پی اے ایف کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور مشترکہ تربیت، مشقوں اور پیشہ ورانہ تبادلوں کے ذریعے تعاون کو بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک نئی رفتار کی نشاندہی کرتا ہے۔