پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے کے لیے 800ارب روپے دیے گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بات خیبرپختونخوا کے شرکا کے ساتھ قومی ورکشاپ میں شرکت کے موقع پر کہی۔
پاکستان کو عسکریت پسندی کا سامنا ہے اور گذشتہ برس کے دوران ملک کے مختلف علاقوں خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں نے نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ عوامی مقامات کو اور تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ ’ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی، افغانستان کی عبوری حکومت نے ہماری ایک نہیں سنی۔‘
انہوں نے جھوٹ اور پراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنو ں میں ’زہر گھولنے‘ کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ صوبوں نے این ایف سی میں ملنے والے وسائل سے فائدہ اٹھا کر بھرپور ترقی کی، لیکن خیبرپختونخوا میں یہ نظر نہیں آتی۔
’سوشل میڈیا پر شہدا کی قربانیوں کی توہین کرکے سرحد پاردشمن کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے۔‘
تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، عطاء اللہ تارڑ اور دیگربھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ’افغان جنگ کے نتیجے میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ اور سب کے سامنے ہے ،40 لاکھ افغان پنا ہ گزین ہجرت کرکے آئے تو خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام نے ان کی مہمان نوازی ، میزبانی اور خاطر داری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ،یہ بطور مسلمان اور ہمسایہ ہمار ا فرض تھا لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر آیا اور ملک بھرمیں دہشت گردی نے سر اٹھایا۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت ہے کہ موجودہ صورت حال اور طرزعمل کا جائزہ لیا جائے ۔ ’افغانستان کی ماضی اورحال کی حکومتوں نے ہماری میزبانی کی قدر نہیں کی ، بھائی چارے کے جواب میں بھائی چارے کا مظاہرہ نہیں ہوا اورجس طرح افغانستان نے جواب دیا وہ قابل افسوس ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہورہی ہے۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدہ اور گذشتہ سال کے اواخر میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں بھی جس کے بعد لگ بھگ 100 دن سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد بند ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی وجہ افغانستان میں موجود جنگجوؤں کے خلاف طالبان حکومت کی کارروائی نہ کرنا ہے لیکن افغانستان کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتی آئی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف عسکریت پسندی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔