کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں صوبہ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے ایک ہزار 588 واقعات رپورٹ ہوئے جس میں 54 ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ تب دیکھنے میں آیا جب افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت قائم ہوئی اور پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند پاکستان میں دراندازی کر کے کارروائیاں کرتے ہیں۔
ان واقعات کی رپورٹ جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق سب سے زیادہ 391 واقعات بنوں ریجن میں رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ دوسرے نمبر پر زیادہ تر واقعات شمالی وزیرستان ریجن میں رپورٹ ہوئے ہیں جن کی تعداد 181 ہے۔
بنوں کے ریجنل پولیس آفیسر سجاد خان کے مطابق بنوں میں شدت پسندانہ کارروائیوں میں 27 پولیس اہلکار جان سے گئے جب کہ جوابی کارروائی میں رواں سال 53 شدت پسند مارے گئے۔
تیسرے نمبر پر سب سے متاثرہ پشاور ریجن ہے جہاں شدت پسندی کے 163 واقعات، ڈیرہ اسماعیل خان ریجن میں 152، اور ضلع خیبر میں 119 واقعات کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نے رپورٹ کیے ہیں۔
خیال رہے کہ ان واقعات میں ڈرون حملے، بھتہ خوری، شدت پسندوں کی سہولت کاری، دستی بم حملے، باردوی سرنگ کے دھماکے، اغوا اور شدت پسندی سے جڑے فائرنگ کے واقعات شامل ہیں۔
دہشت گردی میں سب سے زیادہ فائرنگ کے واقعات شامل ہیں جن کی تعداد 557 ہے جب کہ دوسرے نمبر پر دیسی ساختہ بم دھماکوں کےسب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس کی تعداد 160 ہے۔
ڈرون یا کواڈ کاپٹر کا استعمال
اس بار دہشت گردی میں استعمال ہونے والے ڈرون یا کواڈ کاپٹر کے حملے بھی اعدادوشمار میں شامل کیے گئے ہیں اور ان حملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ خیال رہے کہ شدت پسند تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ بعض ویڈیوز میں بھی ڈرون یا کواڈ کاپٹر کا استعمال دیکھا جا سکتا ہے۔
اس بات کی تصدیق خیبر پختونخوا حکومت کے سابق ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے انڈپینڈنٹ اردو کو ایک انٹرویو میں بھی کی تھی کہ عسکریت پسند سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون کا استعمال کرتے ہیں۔
انسداد دہشت گردی پولیس کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ڈرون حملے شمالی وزیرستان میں ہوئے۔ ان حملوں کی تعداد 25 ہے جب کہ دوسرے نمبر پر بنوں میں 20 ڈرون حملے ہوئے ہیں۔ تاہم ریجنل پولیس آفیسر بنوں کے مطابق رواں سال جولائی میں اینٹی ڈرون نظام کی مدد 300 ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔
رسول داوڑ کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے اور وہ پشاور میں نجی ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔ وہ 2007 سے عسکریت پسندی کے واقعات کی رپورٹنگ کر رہے ہیں جبک ہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مختلف رہنماؤں کے انٹرویوز بھی کر چکے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رسول داوڑ کے مطابق رواں سال ڈرون حملوں کے اعدادوشمار بالکل نئی چیز ہیں اور اب عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے جب کہ اس سے پہلے ڈرون کا بطور ہتھیار استعمال عام نہیں تھا۔
رسول داوڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’ڈرون حملوں میں شدت پسندوں کا نقصان کم ہوتا ہے۔ ایک کواڈ کاپٹر پر دو سے تین لاکھ کا خرچہ آتا ہے۔‘
رسول داوڑ کے مطابق کواڈکاپٹر کے ساتھ ایک مارٹر گولہ یا دیسی ساختہ بم منسلک کیا جاتا ہے۔ ڈرون کے درست ہدف تک پہنچنے میں مشکلات کی وجہ سے بعض اوقات عام لوگوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’اب پولیس نے اینٹی ڈرون سسٹم بنا دیا ہے جس کے ذریعے ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جاتا ہے۔‘