قیادت کی لغزش پورے ادارے کو تباہ کر سکتی ہے

گذشتہ ہفتے سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر کی کئی ویڈیوز انٹرنیٹ پر گردش کرتی رہیں۔ وہ ان ویڈیوز میں مبینہ طور پر نشے کی حالت میں دکھائی دے رہے تھے، جس کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔

20 اکتوبر 2025 کی اس تصویر میں سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کا داخلی دروازہ  دیکھا جا سکتا ہے (یونیورسٹی آف سندھ جامشورو انسٹاگرام)

گذشتہ ہفتے سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر کی کئی ویڈیوز انٹرنیٹ پر گردش کرتی رہیں۔ وہ ان ویڈیوز میں مبینہ طور پر نشے کی حالت میں دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنی اس حالت میں کیمپس میں کافی بد تمیزی کی۔

بعد ازاں حکومتِ سندھ کے یونیورسٹییز اور بورڈز ڈیپارٹمنٹ نے انہیں معطل کرنے اور واقعے کی انکوائری کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔

میں نے فیس بک پر وائرل کچھ ویڈیوز کے نیچے تبصرے پڑھے۔ زیادہ تر تبصروں میں اس واقعے کو سندھ میں تعلیمی و سیاسی بحران سے جوڑا جا رہا تھا۔ کچھ تبصروں میں پروفیسر ڈاکٹر اظہر علی شاہ سے واقف لوگ ان کا تعلیمی پس منظر بتا رہے تھے۔ ان کے مطابق پروفیسر اظہر اپنی فیلڈ کے ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔

میں نے پروفیسر کی انٹرنیٹ پر پروفائل تلاش کی تو وہ فوراً مل گئی۔ اس کے مطابق انہوں نے برطانیہ کی معروف یونیورسٹی آف ناٹنگھم سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس سے پہلے ان کا تعلیمی سفر یونیورسٹی آف سندھ میں گزرا ہے۔

اپنے ایم فل سے پہلے ہی سن 2000 میں وہ یونیورسٹی آف سندھ میں درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے تھے اور تب سے وہیں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

گوگل سکالر پر ان کی پروفائل پر 49 تحقیقی پرچے موجود ہیں۔ انہوں نے سندھ کی یونیورسٹیوں میں اصلاحات کی ضرورت پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ ان کی پروفائل اکیڈیمیا میں ان کی انتھک محنت دکھا رہی ہے۔ تاہم، سندھ کی یونیورسٹیوں میں اصلاحات پر کتاب لکھنے والے خود اس سال کے شروع میں ان اصلاحات کی ضرورت کا جیتا جاگتا ثبوت بن گئے ہیں۔

پاکستانی جامعات کے سیاسی ماحول میں ایک لیکچرر کا پروفیسر بننا اور پھر وائس چانسلر کے عہدے تک پہنچنا اپنے آپ میں ایک کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ہر عہدہ ایک ذمہ داری کے ساتھ آتا ہے۔ جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے، ذمہ داری اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ ذرا سی لغزش سالوں کی محنت کو پل بھر میں ضائع کر سکتی ہے۔

میں ہمیشہ اپنی یونیورسٹی کے ریکٹر، پرو ریکٹرز اور ڈینز کو بہترین لباس میں دیکھتی ہوں۔ ان کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ ہوتی ہے۔ وہ ہر ایک سے تپاک سے ملتے ہیں اور طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ کسی تقریب پر مدعو ہوں تو انہیں وقت پر پہنچنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات تقریب کے آخر تک رکنا پڑتا ہے۔

میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ وہ اپنے عہدے کی وجہ سے کتنی پابند اور محدود زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں بطور اکیڈیمک بہت سی بورنگ تقریبات کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی حاضری لگا کر کسی بہانے سے وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں لیکن بڑے عہدوں پر موجود افراد ایسا نہیں کر سکتے۔ انہیں پوری تقریب میں بیٹھنا پڑتا ہے۔

وہ ہماری طرح یونیورسٹی کے کیفے میں چائے پیتے ہوئے یا ساتھیوں سے گپیں لگاتے ہوئے بھی نظر نہیں آتے۔ انہیں اپنی بریک کے دوران اور چھٹی کے بعد بھی پیشہ ورانہ طور پر بہترین نظر آنا ہوتا ہے۔

ان کا بااعتماد دوستوں کا دائرہ بھی عموماً نہایت محدود ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا ہر جملہ منصب کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کی مسلسل احتیاط اور خود پر عائد پابندیاں ان کے ذہنی دباؤ کو بڑھا سکتی ہیں۔

اس واقعے کے بعد ہمیں دیکھنا چاہیے کہ جامعات کے اندر شدید دباؤ، انتظامی کشمکش اور مسلسل بہترین کارکردگی کے مطالبات کے ماحول میں کام کرنے والے اساتذہ اور منتظمین کے لیے کون سی باقاعدہ سہولیات اور معاونت موجود ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا وہاں افراد کی نفسیاتی بہبود کو ادارہ جاتی ترجیح سمجھا جاتا ہے؟ کیا وہاں مشاورت، کاؤنسلنگ اور پیشہ ورانہ سپورٹ کے منظم ڈھانچے موجود ہیں یا اس سب کو فرد کی ذاتی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے؟ سب سے اہم سوال کہ ذہنی صحت کی اہمیت جانتے ہوئے اور فیصلے کا اختیار رکھتے ہوئے ان عہدوں پر موجود افراد اپنے اداروں میں ایسے ڈھانچے مضبوط کیوں نہیں کرتے؟

ہماری جامعات میں اصلاحات اسی وقت ممکن ہیں جب ہم ایسے واقعات پر ہنسنے کے بجائے ان پر سنجیدگی سے غور کریں، ان کے پسِ پردہ عوامل کو سمجھیں اور بروقت اقدامات کے ذریعے ان کی روک تھام کو یقینی بنائیں۔

ایسے واقعات نہ صرف ایک فرد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام اور معاشرے پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ پہلے ہی جامعات سے متعلق ناخوشگوار واقعات کو وجہ بنا کر ان کے خلاف بات کی جاتی ہے۔

جامعات میں ہراسانی کے واقعات کی خبروں کے باعث بعض والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔ آئے دن عوامی شخصیات، حتیٰ کہ پارلیمان کے اراکین بھی جامعات پر منشیات کے مراکز ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بڑے منصب پر فائز فرد کا نامناسب حالت میں سامنے آنا جامعات پر مزید سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔

اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیق ہونی چاہیے اور کمیٹی کی سفارشات پر دیانت داری سے عمل درآمد کیا جانا چاہیے تاکہ ادارہ جاتی احتساب یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، معاملہ صرف تادیبی کارروائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر اس واقعے کے پس منظر میں کسی قسم کا نفسیاتی دباؤ یا ذاتی بحران کارفرما تھا تو اس کی پیشہ ورانہ تشخیص اور مناسب علاج بھی ضروری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعے کے نفسیاتی اثر کے علاج کی ضرورت بھی دھیان میں رکھنی چاہیے۔

ساتھ ہی ساتھ جامعات کو چاہیے کہ وہ بھرتی اور ترقی کے عمل میں سیاسی وابستگیوں کے بجائے اہلیت، تجربے اور اخلاقی معیار کو بنیاد بنائیں۔ تقرری کے بعد افراد کے لیے فلاحی پروگرامز، پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی لازمی تربیت اور گمنام شکایتی نظام کو باقاعدہ طور پر نافذ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی ذہنی صحت کو بھی ادارہ جاتی ترجیح دی جائے تاکہ وہ منصب کے دباؤ میں ایسے فیصلے یا رویے اختیار نہ کریں جو بعد میں ان کے لیے طویل المدتی مشکلات اور پشیمانی کا سبب بنیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ