اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر کوئی انسان قتل کیوں کرتا ہے؟
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اس کا کوئی ایک سطری یا آسان جواب نہیں ہے۔ امریکی سائیکلوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق کے مطابق زیادہ تر قاتل ذہنی بیمار نہیں ہوتے بلکہ ان میں کچھ خطرناک نفسیاتی رجحانات پائے جاتے ہیں۔
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کے سابق پروفائلر ڈاکٹر رابرٹ ریسلر کے مطابق کئی قاتلوں میں طاقت اور کنٹرول حاصل کرنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔
اور طاقت حاصل کرنے کے لیے وہ تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ کچھ قاتلوں میں ہمددری اور غلطی کا احساس تقریباً موجود ہی نہیں ہوتا جسے نفسیات کی زبان میں سائیکوپیتھی کہا جاتا ہے۔
ایسے افراد درست اور غلط محسوس نہیں کرتے۔ نیورو سائنس دان ڈاکٹر کینٹ کہل کی تحقیق کے مطابق، بعض جرائم پیشہ افراد کے دماغ کے وہ حصے کمزور ہوتے ہیں جو ہمدردی اور درست اخلاقی فیصلے کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ماہرین کہتے ہیں کہ بچپن میں کوئی صدمہ دماغ میں تشدد کے عنصر کو بڑھا سکتا ہے۔ امریکہ کے نیشل انسٹیٹویٹ آف مینٹل ہیلتھ کے مطابق، قتل کسی ایک وجہ سے نہیں، بلکہ شخصیت اور ماحول کا مرکب ہوتا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نفسیات ہمیں رویوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، مگر نفسیاتی مسائل کو کسی جرم کے ارتکاب کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔