پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر واہ کینٹ میں خاتون کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کے واقعے میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
30 دسمبر 2025 کی رات واہ کینٹ میں تقریباً 25 سالہ سمیرہ عزیز کو ’کسی غیر مرد سے فون پر بات کرنے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے رشتہ داروں نے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کر دیا تھا۔
قطر میں مقیم سمیرہ عزیز بہن کی شادی میں شرکت کی غرض سے پاکستان آئی ہوئی تھیں۔ تھانہ واہ کینٹ کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) مظہر حنیف قادری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ سمیرہ عزیز کے قتل میں نامزد دو ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرا مفرور ہے۔
مظہر حنیف نے بتایا ہے کہ گرفتار کیا گیا اسرار نامی ملزم مقتول سمیرہ عزیز کا رشتہ دار ہے۔
ملزم کو مجسٹریٹ آصف ڈوگر نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا ہے۔ سب انسپکٹر آصف اقبال انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا ہے کہ سمیرہ اپنے شوہر اور 10 سالہ بچی کے ساتھ قطر میں مقیم تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کے رشتہ داروں کو شبہہ تھا کہ سمیرہ کے قطر میں ہی مقیم کسی شخص سے تعلقات ہیں۔
سمیرہ کے خاندان کا تعلق خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ہنگو سے ہے۔
آصف اقبال نے بتایا کہ سمیرہ عزیز کے شوہر، چچا اور دیگر افراد نے میٹنگ کی اور دو افراد کو اس اقدام کے لیے نامزد کیا جنہوں نے گھر آکر کر خاتون کو قتل کیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس کی مدعیت میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 30 دسمبر 2025 کو واہ کینٹ کے علاقے لالہ زار سے قتل کی اطلاع موصول ہوئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مقتولہ کی بہن موقعہ پر موجود تھی جس نے بیان دیا کہ اس کی بہن سمیرہ عزیز قطر میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم تھی اور ایک ہفتہ قبل بچوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں۔ ’شام تقریبا ساڑھے سات بجے ان کے گھر ولید، اسرار اور صابر آئے۔ اس وقت گھر میں والد اور بچے موجود تھے۔ کچھ دیر مشورہ کرنے کے بعد تینوں مرد گھر سے چلے گئے۔ گھر میں سعیدہ زوجہ امتیاز اور ہمشیرہ سمیرہ عزیز موجود تھیں۔‘
ایف آئی آر کے متن کے مطابق رات تقریبا 10 بج کر 20 منٹ پر دروازے پر دستک ہوئی۔ ’سمیرہ عزیز کی بہن اور شاہ خان نے سعیدہ کو دروازہ کھولنے سے منع کیا، لیکن اس دوران امتیاز (سمیرہ کے شوہر) نے قطر سے فون کر کے دروازہ کھولنے کو کہا جس پر دروازہ کھول دیا گیا۔ ولید اور اسرار، جو قریبی رشتہ دار ہیں، گھر میں داخل ہوئے جبکہ صابر دروازے پر کھڑا رہا۔‘
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’اس دوران سلیمان (شوہر) نے قطر سے سعیدہ کو وڈیو کال کر کے کہا کہ سمیرہ سے بات کراؤ۔ ولید اور اسرار سمیرہ کو اوپر والی منزل کے کرایہ دار حصے میں لے گئے، جہاں شاہ خان بھی موجود تھی۔ وہاں سلیمان کی باتیں سنی گئیں جن میں سمیرہ کو ٹھکانے لگانے کا ذکر تھا۔
’کچھ دیر گزرنے کے بعد ولید اور اسرار نے اپنے اپنے پستول نکال کر سمیرہ عزیز پر سیدھی فائرنگ کی۔ گولیاں جسم کے مختلف حصوں پر لگیں جس سے سمیرہ عزیز موقع پر ہی جان سے چلی گئیں جبکہ ملزمان فرار ہو گئے۔ بعد ازاں مقتولہ کی لاش کو گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’قتل کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مقتولہ کو اس کے شوہر سلیمان نے قطر میں کسی غیر مرد سے فون پر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔‘
بیان کے مطابق سمیرہ عزیز کو ولید اور اسرار نے چچی سعیدہ اور صابر کے ساتھ مشورہ کر کے سلیمان کے کہنے پر ناحق قتل کیا۔