چینی اے آئی ٹیکنالوجی سے انسداد دہشت گردی میں مدد مل سکتی ہے: محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کو بیجنگ میں چینی وزارت پبلک سکیورٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے 7 جنوری 2026 کو بیجنگ میں چینی ہم منصب وانگ ژاو ہونگ سے ملاقات کی (وزارت داخلہ پاکستان)

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کو بیجنگ میں چینی ہم منصب وانگ ژاو ہونگ سے ملاقات میں کہا ہے کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی سے انسداد دہشت گردی اور بڑھتے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کو بیجنگ میں چینی وزارت پبلک سکیورٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر محسن نقوی اور چینی وزیر داخلہ کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے تک ملاقات جاری رہی۔

بیان کے مطابق اس طویل ملاقات میں دونوں وزرائے داخلہ نے انسداد دہشت گردی، پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے پر بات چیت کی۔

اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور چین کے درمیان نہ ٹوٹنے والا تعلق اور دیرپا تعاون ہے اور ہمارے بیچ کوئی بھی دراڑ نہیں ڈال سکتا۔‘

پاکستان اور چین کے وزرائے داخلہ نے ملاقات میں سکیورٹی چیلنجز پر بھی بات کی جبکہ چینی وزیر داخلہ نے چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

بیان کے مطابق چینی وزیر داخلہ نے انسداد دہشت گردی اور داخلی سکیورٹی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب محسن نقوی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چینی اے آئی بیسڈ ٹیکنالوجی سے بہت مدد مل سکتی ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ ہی کے آغاز میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی چین کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ساتویں پاکستان۔ چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک مکالمے کی مشترکہ صدارت کی تھی۔

اس موقع پر چین اور پاکستان نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

وزرائے خارجہ کا سٹریٹجک مکالمہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ ترین مشاورتی فورم ہے جو دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات کا بھی جائزہ لینے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان