افغانستان ’دہشت گرد‘ تنظیموں کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے: پاکستان، چین

مشترکہ اعلامیے میں دونوں ملکوں نے ’افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے زیادہ واضح اور قابل تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی چار جنوری، 2026 کو بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقعے پر اپنے اپنے وفد کے ہمراہ (پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ)

پاکستان اور چین نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک موجود تمام ’دہشت گرد‘ تنظیموں کو ختم کرنے اور انہیں کابل کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف عسکریت پسندی کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کے لیے مزید ’نمایاں اور قابل تصدیق‘ اقدامات کرے۔

پاکستان-چین وزرائے خارجہ کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کے اختتام کے بعد پیر کو مشترکہ اعلامیے دونوں ملکوں نے یہ مطالبہ کیا، ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت  نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کی۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ’فریقین نے افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے زیادہ واضح اور قابل تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنے ہوئے ہیں اور دہشت گرد تنظیموں کو افغان علاقے کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے اور کسی دوسرے ملک کو خطرے میں ڈالنے سے روکا جا سکے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فریقین نے افغان مسئلے پر قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنے، بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر افغان حکومت کو جامع سیاسی فریم ورک بنانے کی ترغیب دینے، معتدل پالیسیاں اپنانے، ترقی پر توجہ دینے، اچھے ہمسایہ تعلقات کی پیروی کرنے، اور افغانستان کو مستحکم ترقی حاصل کرنے اور بین الاقوامی برادری میں ضم ہونے میں تعمیری کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ چین نے اسلام آباد کی جانب سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف کارروائی اور پاکستان میں چینی عملے، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔

’چین نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف برسوں سے کی گئی نمایاں خدمات اور بڑی قربانیوں کو مکمل طور پر تسلیم کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’فریقین نے دہشت گردی کے تمام اقسام اور مظاہر کے خلاف صفر برداشت کے ساتھ اپنے عزم کا اعادہ کیا، اور دہشت گردی اور سلامتی کے خلاف ہمہ جہت تعاون کو مزید گہرا کرنے اور چین-پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو محفوظ اور ہموار انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔‘

’بین الاقوامی برادری سے انسداد دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے کی اپیل کرتے ہوئے، دونوں فریقوں نے انسداد دہشت گردی میں دوہری معیار کی سخت مخالفت کا اظہار کیا۔‘

چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اتوار کو پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران وینزویلا کی صورت حال پر تبصرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ کبھی یہ نہیں مانتے کہ کوئی ایک ملک دنیا کا پولیس مین بنے، اور نہ ہی یہ درست سمجھتے ہیں کہ کوئی خود کو عالمی جج قرار دے۔ ’ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا مکمل تحفظ ہونا چاہیے۔ ہم بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کی مسلسل مخالفت کرتے ہیں اور ایک ملک کی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کے خلاف ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چین عالمی برادری، بشمول پاکستان کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری، بین الاقوامی اخلاقیات کی حفاظت ممالک کی خودمختار، برابری کے اصول کے احترام اور عالمی امن و ترقی کے مشترکہ تحفظ کے لیے تیار ہے۔‘
 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان