افغانستان خواتین کے لیے بدترین جبکہ ڈنمارک بہترین ملک: رپورٹ

اس فہرست کے مطابق پاکستان 181 ممالک میں 169 نمبر پر ہے۔

امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ویمن، پیس اینڈ سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے 181 ممالک میں سے افغانستان خواتین کے لیے بدترین ملک ہے۔

اس نئی رینکنگ سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان میں خواتین کو دیگر ممالک کے مقابلے میں بدترین حالات کا سامنا ہے۔

فہرست کے مطابق پاکستان 169 نمبر پر ہے۔ رپورٹ نے ڈنمارک کو خواتین کے لیے بہترین ملک قرار دیا ہے۔

اس کے بعد آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ کا نمبر آتا ہے۔

یہ تشخیص تین بنیادی شعبوں میں 13 اشاریوں پر مبنی ہے، یعنی شرکت اور مواقع، انصاف اور سلامتی۔

ان اشاریوں میں خواتین کی تعلیم اور صحت کی خدمات تک رسائی، خواتین کی معاشی شرکت، ذاتی تحفظ اور قانونی حقوق ملنا شامل ہیں۔

افغانستان کے بعد یمن، وسطی افریقی جمہوریہ، شام، سوڈان، ہیٹی اور برونڈی وہ ممالک ہیں جہاں خواتین کی صورت حال انتہائی ناقص اور نازک سمجھی جاتی ہے اور وہ ٹیبل میں سب سے نیچے ہیں۔

مسلح تصادم، سیاسی عدم استحکام، قانونی امتیاز اور سماجی پابندیاں وہ عوامل ہیں جنہوں نے ان ممالک میں خواتین کی زندگی کو بہت مشکل بنا دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان 2017 میں اس انڈیکس کے قیام کے بعد سے عالمی خواتین، امن اور سلامتی میں مسلسل سب سے کم درجے پر ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں 20 لاکھ سے زائد نوجوان لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں۔

2021 کے بعد سے، جب طالبان کے اقتدار میں واپسی ہوئی، خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں، جن میں چھٹی جماعت سے آگے تعلیم، کام پر پابندی، اور پارکوں اور کنڈرگارٹنز جیسے عوامی مقامات پر آزادانہ نقل و حرکت بھی ممنوع ہے۔

خواتین کو موسیقی بجانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور میڈیا میں ان کی موجودگی ماسک پہننے اور طالبان کے لازمی حجاب کے ساتھ مشروط ہے۔

بی بی سی پشتو کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت اب تک خواتین کے خلاف 20 سے زائد پابندیوں کے احکامات جاری کر چکی ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی نومبر 2025 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد میں گذشتہ دو برسوں کے دوران ’ساختی، نفسیاتی اور منظم تشدد‘ کا سامنا 40 فیصد تک ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین