2025: خواتین پر تشدد کے مقدمات، 93 فیصد ملزمان بری کیوں؟

خیبر پختونخوا میں خواتین پر تشدد کے خلاف یہ مقدمات مختلف نوعیت کے ہیں، جن میں گھریلو تشدد، اجتماعی زیادتی، قتل اور جنسی تشدد جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

25 نومبر 2009 کو کراچی میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقعے پر شرکا نعرے لگا رہی ہیں (اے ایف پی)

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’عورت فاؤنڈیشن‘ کے مطابق خیبر پختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پر خواتین پر تشدد کے تقریباً آٹھ کیسز پولیس کو رپورٹ ہوتے ہیں، تاہم ان مقدمات میں صرف سات فیصد ملزمان کو سزائیں ہو پاتی ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے خیبر پختونخوا میں خواتین پر تشدد کے واقعات سے متعلق سالانہ رپورٹ گذشتہ روز جاری کی گئی جس میں پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2025 کے دوران مجموعی طور پر 2333 مقدمات پولیس کو رپورٹ ہوئے۔

یہ مقدمات مختلف نوعیت کے ہیں، جن میں گھریلو تشدد، اجتماعی زیادتی، قتل اور جنسی تشدد جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

تاہم عورت فاؤنڈیشن کی پروگرام مینجر صائمہ منیر کے مطابق ان مقدمات میں سے صرف 186  واقعات چار بڑے اخبارات میں رپورٹ ہوئے، جو ایک المیہ ہے۔

صائمہ منیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہم نے روزنامہ ڈان، روزنامہ آج، شمال اور روزنامہ ایکسپریس کا پورے سال کا ڈیٹا اکٹھا کیا، جس میں صرف 186 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خواتین پر تشدد کے واقعات میڈیا میں کم رپورٹ ہوتے ہیں۔‘

ان کے مطابق پولیس کو رپورٹ ہونے والے مقدمات میں 93  فیصد میں ملزمان بری ہو گئے، جبکہ صرف سات فیصد مقدمات میں سزائیں ہوئیں۔

صائمہ منیر نے مزید بتایا کہ صوبے کے 16  اضلاع میں خواتین پر تشدد کا ایک بھی واقعہ پرنٹ میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا، حالانکہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان اضلاع میں واقعات پیش ہی نہیں آئے، بلکہ اصل مسئلہ رپورٹ نہ ہونا ہے۔

مقدمات میں ملزمان بری کیوں ہوتے ہیں؟

93  فیصد مقدمات میں ملزمان کے بری ہونے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے صائمہ منیر نے کہا کہ ناقص تفتیش، شواہد کو درست طریقے سے عدالت میں پیش نہ کرنا، اور متاثرہ خواتین کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ملزمان بری ہو جاتے ہیں یا مقدمات عدالت سے باہر صلح کے ذریعے ختم کر دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’بہت سی خواتین معاشرتی اقدار، شرم، تنہائی کے خوف، قانونی مدد کی عدم دستیابی اور خاندانی دباؤ کے باعث تشدد کے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتیں۔‘

خیبر پختونخوا پولیس پراسیکیوشن کے ڈائریکٹر عبادالرحمٰن نے دی انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ زیادہ تر مقدمات میں جرگوں کے ذریعے صلح کر لی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق جن مقدمات میں جرگہ یا صلح شامل نہ ہو، وہاں پولیس باقاعدہ پیروی کرتی ہے اور سزائیں بھی ہوتی ہیں۔

عبادالرحمٰن نے کہا: ’ہمارے معاشرے میں جرگہ نظام مضبوط ہے، اسی وجہ سے زیادہ تر مقدمات میں آؤٹ آف کورٹ صلح ہو جاتی ہے اور مقدمات خارج کر دیے جاتے ہیں۔‘

عورت فاؤنڈیشن نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ حکومت اور عدالتی نظام کو خواتین کے لیے مزید قابلِ رسائی بنایا جائے تاکہ وہ بلا خوف تشدد کے واقعات رپورٹ کر سکیں، اور معاشرے میں موجود نقصان دہ اقدار کی بیخ کنی کی جائے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن آمنہ سردار، جو خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں، نے دی انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مقدمات میں ملزمان کے بری ہونے کی ایک بڑی وجہ قوانین کی کمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف پولیس ملزمان کو گرفتار کرتی ہے، مگر بعد میں ناقص تفتیش کے باعث وہ عدالت سے بری ہو جاتے ہیں۔

آمنہ سردار کے مطابق: ’جرگہ نظام میں معاشرتی اور خاندانی دباؤ شامل ہوتا ہے، جس کے تحت خواتین کو مقدمہ واپس لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر اس حوالے سے سخت قانون سازی کی جائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین