2025 میں خواتین کے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ: پی ٹی اے

پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی شرح 2025 میں 45 فیصد ہو گئی۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک میں خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو اس میدان میں صنفی خلیج کو کم کرنے میں اہم پیش رفت ہے۔

پی ٹی اے نے سال 2025 کے لیے سالانہ رپورٹ بدھ کو جاری کی جس میں بتایا گیا کہ 2024 میں 33 فیصد 18 سال سے زائد خواتین موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتی تھیں۔ 2025 میں یہ شرح بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق: ’2017 میں محض 10 فیصد خواتین پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتی تھیں لیکن اب یہ شرح 45 فیصد ہو گئی ہے اور 80 لاکھ سے زائد خواتین نے صرف ایک سال (2025) میں موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا ہے۔‘

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60 فیصد مرد موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل صنفی خلیج کو کم کرنے کی کاوشیں حوصلہ افزا ہیں۔‘

رپورٹ میں ڈیجیٹل صنفی امتیاز کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ موبائل صنفی فرق 38 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد ہو گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں اس امتیاز میں کمی آگئی ہے جو خوش آئند ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب بھی چیلنجز موجود ہیں کیوں کہ 28 فیصد مردوں کے مقابلے میں 40 فیصد خواتین کا خیال ہے کہ ان کو موبائل انٹرنیٹ کا پتہ ہے لیکن وہ اسے استعمال نہیں کرتیں۔

پی ٹی اے رپورٹ کے مطابق موبائل انٹرنیٹ کے استعمال مین صنفی فرق کم ہونے کی صورت میں اس میدان میں چار ارب ڈالر کی آمدن ہو سکتی ہے۔ 

سوشل میڈیا کا استعمال

پاکستان میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان پلیٹ فارمز میں فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سر فہرست ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس میں صنفی خلیج کے بارے میں پی ٹی اے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین سب سے زیادہ یوٹیوب استعمال کرتی ہیں لیکن مرد صارفین کی تعداد پھر بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یوٹیوب صارفین میں صنف کی بنیاد پر فرق 30 فیصد ہے یعنی خواتین صارفین کی تعداد مردوں کے قریب ہے جہاں چھ کروڑ صارفین میں 60 فیصد مرد اور 40 فیصد خواتین ہیں۔

اسی طرح دوسرے نمبر پر خواتین سب سے زیادہ انسٹاگرام استعمال کرتی ہیں اور ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد صارفین میں 35 فیصد خواتین اور 65 فیصد مرد ہیں۔

سب سے بڑا صنفی فرق فیس بک پر دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خاتون صارفین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے یعنی جینڈر گیپ 67 فیصد ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک پر چھ کروڑ 30 لاکھ سے زائد صارفین ہیں جس میں 24 فیصد خواتین اور 76 فیصد مرد ہیں جب کہ ٹک ٹاک پر بھی خواتین کی تعداد دیگر پلیٹ فارمز کے مقابلے میں کم ہے۔

پاکستان میں چھ کروڑ 70 لاکھ سے زائد ٹک ٹاک صارفین میں رپورٹ کے مطابق 29 فیصد خواتین اور 71 فیصد مرد ہیں۔

مبصرین کیا کہتے ہیں؟

مبصرین پی ٹی اے رپورٹ میں خواتین کی ڈیجیٹل سپیس میں اضافے کو خوش آئند سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے مطابق اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ 

صائمہ منیر خواتین کے حقوق پر کام کرنے والے تنطیم عورت فاؤنڈیشن کی پروگرام مینیجر ہیں۔ ان کے مطابق یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ  ڈیجیٹل دنیا میں عورتوں اور لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ڈیجیٹل گیپ کم ہو رہا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ عمل خواتین کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کرے گا جو انہیں بااختیار بنانے میں اہم سنگ میل ہے۔‘

تاہم صائمہ منیر کے مطابق ڈیجیٹل دنیا کو عورتوں اور بچوں کے لیے محفوظ بنانا ہو گا تاکہ وہ بلاخوف و خطر کام کر سکیں۔

انہوں نے کہا: ’قوانین اور سکیورٹی نظام مزید بہتر کرنے ہوں گے اور شکایات کے طریقہ کار کو آسان اور تحقیقاتی نظام کو تیزتر کرنا ہو گا تاکہ ملزم کے خلاف کارروائی ہو سکے، انہیں سزائیں ملیں اور لوگوں کا قانون پر اعتماد بحال ہو۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی