پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وینزویلا میں امریکی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وینزویلا کی صورت حال پر پیر کو نیویارک میں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی قائم مقام مندوب عثمان جدون نےکہا کہ کیریبین خطے میں عدم استحکام علاقائی اور عالمی امن وسلامتی کےلیے نیک شگون نہیں کیونکہ دنیا پہلے ہی کئی بحرانوں سے دوچار ہے۔
پاکستانی قائم مقام مندوب نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کی سرحدی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال یا دھمکی سے گریز کرنا لازم ہے کیونکہ اقوامم متحدہ کا منشور دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا پابند بناتا ہے۔
(5 جنوری 2026)
******
محترم صدر،
مجھے اجازت دیجیے کہ اس ماہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے پر صومالیہ کو دلی مبارکباد پیش کروں… pic.twitter.com/nbKmTfvwAd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) January 5, 2026
پاکستانی قائم مقام مندوب عثمان جدون نے یکطرفہ فوجی کارروائی کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خود مختار استثنا کے نظریے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی قانونی ڈھانچےکی بنیادوں کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں، ساتھ ہی خبردار کیا کہ یہ اقدامات آنے والے برسوں تک غیر متوقع اور بےقابو نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستانی قائم مقام مندوب نے نازک مرحلے میں مکالمے اور سفارت کاری کو آگے بڑھنے کا واحد راستہ قرار دیا اور فریقین پر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی میں کمی لانے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے پر زور دیا۔
انہوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری کی ادائیگی میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ کشیدگی میں کمی، تنازعات کے پُرامن حل کے فروغ اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے احترام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عثمان جدون نے کہا کہ وینزویلا میں امن و استحکام، اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی، ان کی مکمل ملکیت کے ساتھ، تمام کوششوں کا حتمی اور بالاتر ہدف ہونا چاہیے۔
وینزویلا کے اقوام متحدہ کے سفیر، سیموئیل مونکاڈا نے اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا ’بغیر کسی قانونی جواز کے غیر قانونی مسلح حملے‘ کا نشانہ بنا اور امریکہ پر ’اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی‘ کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ نہ صرف ملک کی خودمختاری کو خطرہ ہے بلکہ ’بین الاقوامی قانون کی ساکھ‘ اور اقوام متحدہ کی اتھارٹی بھی خطرے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا کو 3 جنوری کو امریکہ کی طرف سے ’غیر قانونی مسلح حملہ‘ کا نشانہ بنایا گیا جس کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشنز اور خود مختار مساوات کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ تہران ’وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
مسٹر ایروانی نے کہا کہ یہ غیر قانونی عمل ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی ہے۔
وینزویلا کی پارلیمنٹ کے رکن اور معزول صدر نکولس مادورو کے بیٹے نکولس مادورو گویرا نے اپنے والدین کو حراست میں لیے جانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں امریکی کارروائی کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم صدر کے اغوا کو معمول پر لائیں تو کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔ آج یہ وینزویلا ہے، کل یہ کوئی بھی ملک ہو سکتا ہے جو ہتھیار ڈالنے سے انکار کرے۔ یہ کوئی علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے سیاسی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔‘
نکولس مادورو کے بیٹے نے اپنے والدین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔