|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 18ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس |
رات 10 بج کر 10 منٹ
’ایرانی حملے کا نشانہ‘ بننے والے امریکی لڑاکا طیارے کی ہنگامی لینڈنگ
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران فائر کا نشانہ بننے والے ایک امریکی F-35 لڑاکا طیارے نے مشرق وسطیٰ میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق یہ پانچویں نسل کا سٹیلتھ جیٹ ’ایران کے اوپر ایک لڑاکا مشن پر تھا‘ جب اسے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
ہاکنز نے مزید کہا ’طیارہ بحفاظت اتر گیا اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔‘
یہ پہلی بار ہے جب ایران نے اس جنگ میں کسی امریکی طیارے کو نشانہ بنایا ہو۔ اس تنازعے میں امریکہ اور اسرائیل دونوں F-35 طیارے استعمال کر رہے ہیں، جن کی قیمت 100 ملین ڈالر سے زیادہ ہوتی ہے۔
رات 8 بجے
’گیس پلانٹ پر ایرانی حملے کے ’عالمی توانائی کی فراہمی پر اہم اثرات مرتب ہوں گے‘: قطری وزیراعظم
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن ال ثانی نے جمعرات کو ریاست کے مرکزی گیس مرکز پر ایران کے حملوں کی مذمت کی ہے جب تہران نے ایک دن پہلے خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے تھے۔
انہوں نے راس لافان کی سہولت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے بعد جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’اس حملے کے عالمی توانائی کی سپلائی پر اہم اثرات ہیں۔ اس طرح کے حملے کسی بھی ملک کو براہ راست فائدہ نہیں پہنچاتے، بلکہ وہ آبادی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور براہ راست متاثر کرتے ہیں۔‘
شام 6 بج کر 40 منٹ پر
چھ ممالک کا آبنائے ہرمز میں ’محفوظ راستہ یقینی بنانے کی کوششوں‘ کو فروغ دینے کی یقین دہانی
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان سمیت چھ مغربی اتحادیوں نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب کوششوں میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔
گروپ، جس میں اٹلی اور نیدرلینڈز بھی شامل ہیں، نے مزید کہا کہ ’ہم ان ممالک کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں جو تیاری کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔‘
بیان میں خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت بھی کی گئی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی ناکہ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے مغرب میں تقریباً 3,200 بحری جہازوں پھنسے ہوئے تھےشا۔
شام 5 بج کر 40 منٹ پر
مصری صدر کا سعودی ولی عہد کو فون، ایرانی حملوں پر یکجہتی کا اظہار
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے ایک بیان میں بتایا کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا اور خطے میں خطرناک فوجی کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران صدر السیسی نے مملکت سعودی عرب کے خلاف ایران کی بار بار کی جانے والی ’گناہ گار اور جارحانہ کارروائیوں‘ کی مصر کی جانب سے شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر، سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف مملکت کے ساتھ یکجہتی اور مکمل حمایت پر قائم ہے۔
شام 4 بج کر 50 منٹ پر
عمان کے وزیر خارجہ نے ایران پر امریکی جنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا، اسرائیل پر الزام لگایا
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی، جنہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کی ثالثی کی تھی نے جمعرات کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں اسرائیل کو جاری تنازعہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جنگ کو ٹالنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی معاہدہ ’واقعی ممکن نظر آیا۔‘
دی اکانومسٹ میں چھپنے والے مضمون میں بدر البوسیدی نے جنگ کو ’تباہ" قرار دینے کے لیے سفارتی زبان کے معمول کے ذخیرے کو ترک کر دیا اور کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو چکی ہے۔‘
البوسیدی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران گذشتہ نو مہینوں میں دو بار ایران کے جوہری پروگرام پر ’حقیقی معاہدے کے راستے پر‘ تھے، بشمول گذشتہ سال جون میں جب یہ عمل اسلامی جمہوریہ پر اسرائیلی امریکی حملوں کے ساتھ ختم ہوا تھا۔
انہوں نے بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور میں ثالثی کی جو عمان میں 6 فروری کو دوبارہ شروع ہوئی، فائنل راؤنڈ 26 فروری کو جنیوا میں منعقد ہوا۔
البوسیدی نے لکھا، ’یہ ایک صدمہ تھا لیکن حیرت کی بات نہیں جب 28 فروری کو، تازہ ترین اور سب سے اہم بات چیت کے صرف چند گھنٹے بعد، اسرائیل اور امریکہ نے ایک بار پھر اس امن کے خلاف غیر قانونی فوجی حملہ کیا جو مختصراً ممکن نظر آیا تھا۔‘
شام 4 بجے
ایف بی آئی جنگ پر استعفیٰ دینے والے اینٹی ٹیررازم کے امریکی اہلکار سے تفتیش کر رہی ہے، رپورٹس
امریکی میڈیا نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ایف بی آئی نے انسداد دہشت گردی کے ایک سابق سینیئر امریکی اہلکار، جنہوں نے ایران کے خلاف امریکی حملوں پر احتجاجاً منگل کو استعفیٰ دیا، کے خلاف خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
نیویارک ٹائمز اور سی بی ایس سمیت امریکی نیوز آؤٹ لیٹس نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جوزف کینٹ کی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر کے طور پر استعفیٰ دینے سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام اپنے استعفے کے خط میں کینٹ نے لکھا تھا کہ ’ایران سے ہماری قوم کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کی وجہ سے شروع کی تھی۔‘
ایک ذریعہ نے نیوز ویب سائٹ سیمافور کو بتایا کہ تحقیقات ’مہینوں طویل‘ تھیں۔
ایف بی آئی نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
دائیں بازو کے براڈکاسٹر ٹکر کارلسن کے ساتھ بدھ کو پوسٹ کیے گئے ایک انٹرویو میں 45 سالہ کینٹ نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔
دن 2 بج کر 15 منٹ
سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل سے حملہ
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے جمعرات کو بتایا ہے کہ سامرف ریفائنری پر ڈرون گرا ہے۔
وزارت دفاع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ينبع پورٹ کی طرف فائر کیے جانے والے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق سامرف ریفائنری پر گرنے والے ڈرون کے بعد نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تاہم یہ ڈرون کس نے بھیجے اور میزائل کہاں سے فائر کیے گئے اس بارے میں وزارت دفاع کے بیان میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
دن 1 بجے
کویت کی نیشنل آئل کمپنی کی ریفائنری پر ڈرون حملہ
کویت کے سرکاری میڈیا کے مطابق جمعرات کو نیشنل آئل کمپنی کی ریفائنری پر ڈرون حملہ ہوا جس کے بعد اس کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔
#KPC: one of operational units at Mina Abdullah Refinery, operated by #Kuwait National Petroleum Company (#KNPC), was targeted this morning by a drone resulting in a fire at the site.Emergency & rapid response teams were immediately deployed to contain and control the fire in… pic.twitter.com/FyWj91dPyC— Kuwait News Agency - English Feed (@kuna_en) March 19, 2026
کویت نیوز ایجنسی کے مطابق کویت پیٹرولیم کارپویشن نے بتایا ہے کہ منا الاحمدی ریفائنری کے ایک آپریشنل یونٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے آگ لگی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
دن 12 بجے:
خلیج عرب میں 22 بحری جہاں پھنس گئے جن کی منزل انڈیا ہے: دی ہندو
انڈین اخبار دی ہندو کے مطابق خلیج عرب میں 22 ایسے بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن میں سے 12 انڈین پرچم والے جہاز بھی شامل ہیں اور سب ہی کی منزل انڈیا ہے۔
اخبار کے مطابق انڈین حکومت انہیں آبنائے ہرمز کے راستے نکالنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
ان جہازوں میں سے 20 کو انڈیا کی توانائی کی سلامتی کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا ہے۔ ان میں 2.15 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی، 3.21 لاکھ ٹن ایل پی جی اور 16.76 لاکھ ٹن خام تیل موجود ہے۔ باقی دو جہاز انڈین پرچم والے کنٹینر بردار جہاز ہیں۔
اخبار کے مطابق خلیج میں اس وقت تقریباً 23000 انڈین ملاح پھنسے ہوئے ہیں، جن میں سے 658 انڈین پرچم والے جہازوں پر سوار ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک مختلف شپنگ کمپنیوں نے خلیجی خطے سے 472 ملاحوں کو نکال لیا ہے۔
صبح 10 بج کر 45 منٹ:
عرب، اسلامی ممالک کی ایرانی حملوں کی مذمت
سعودی عرب میں بدھ کو ہونے والے عرب، اسلامی ممالک کے مشاورتی اجلاس میں خطے پر ایرانی حملوں کی پر زور مذمت کی گئی ہے۔
ریاض میں ہونے والے عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران خلیجی ممالک کے سول انفراسٹرکچر سمیت ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات ، سفارت خانوں اور عوامی جگہوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ حملے کسی صورت جائز نہیں ہیں۔
’اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق خلیجی ریاستوں کو دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’اجلاس ایران کو فوری طور پر حملے روکنے بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے سمیت ہمسایہ ممالک کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
’ایران ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت روکنے سمیت خطے کے امن اور استحکام کو یقینی بنائے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل پیدا نا کرے۔‘
صبح 10 بج کر 35 منٹ:
قطر نے ایرانی اتاشیوں کو ملک چھوڑنے کا کہہ دیا
قطر کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو ایرانی سفارت خانے کے فوجی اور سکیورٹی اتاشیوں کو، ان کے عملے سمیت، 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
Qatar Declares Iranian Embassy Military, Security Attaches "Persona Non Grata"Doha | March 18, 2026The Ministry of Foreign Affairs delivered an official note to the Embassy of the Islamic Republic of Iran to the State, stating that Qatar considers both the military attache… pic.twitter.com/yQachiM7Pk— Ministry of Foreign Affairs - Qatar (@MofaQatar_EN) March 18, 2026
ایسا قطر میں ایک بڑے گیس پلانٹ پر حملے کے بعد کیا گیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سفارت خانے میں تعینات فوجی اتاشی اور سکیورٹی اتاشی، نیز ان کے دفاتر میں کام کرنے والے تمام افراد کو ناپسندیدہ شخصیت (persona non grata) قرار دیا جاتا ہے، اور ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹوں کے اندر ریاست کی حدود چھوڑ دیں۔‘
صبح 9 بج کر 30 منٹ:
ایران کا قطر میں گیس کے بڑے مرکز پر حملہ
قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعرات کو ایرانی حملے کے بعد ملک کے شمال میں واقع ایک بڑے گیس مرکز میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ راس لفان انڈسٹریل ایریا میں لگی آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارت کے مطابق کولنگ اور مقامات کو محفوظ بنانے کی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
صبح 9 بج کر 22 منٹ:
واشنگٹن میں ایک فوجی اڈے کے اوپر نامعلوم ڈرونز
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن میں ایک فوجی اڈے کے اوپر نامعلوم ڈرونز پائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ رہائش پذیر ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے یہ خبر معاملے سے آگاہ تین افراد کے حوالے سے دی۔
رپورٹ کے مطابق حکام اب تک یہ تعین نہیں کر سکے کہ یہ ڈرونز کہاں سے آئے۔
ان ڈرونز کی پرواز نے حکام کو اس بات پر مجبور کیا کہ روبیو اور ہیگسیتھ کو کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے۔
تاہم ایک سینیئر حکومتی عہدیدار کے مطابق دونوں رہنماؤں کو منتقل نہیں کیا گیا۔
روئٹرز اس رپورٹ کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
صبح 9 بج کر 10 منٹ:
ایران کی گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل نے کیا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب کہا کہ ایران ی جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل نے کیا، اس میں امریکہ اور قطر کا کوئی کردار نہیں تھا۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’اسرائیل اس علاقے میں مزید حملے نہیں کرے گا جب تک کہ ایران قطر پر حملہ نہ کرے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر ایران نے دوحہ کے خلاف کارروائی کی تو امریکہ ان تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
ایران کی گیس فیلڈ پر حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’امریکہ کو اس مخصوص حملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، اور قطر کسی بھی طرح اس میں شامل نہیں تھا، نہ ہی اسے اس کے ہونے کا کوئی علم تھا۔‘
دوحہ نے اسرائیل کے حملے کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی، جبکہ ایران پر بھی بین الاقوامی قانون کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام لگایا اور دو سینئر ایرانی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا۔