پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی واپسی کا معاملہ انتظامی ہے جس میں قانونی اور دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی وجہ نہیں ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ’یہ معاملات بنیادی طور پر انتظامی اقدامات سے پیدا ہوئے، بشمول امیگریشن کی حیثیت کی خلاف ورزیاں اور دیگر قانونی خلاف ورزیاں کے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’دبئی میں پاکستانی قونصل خانہ نے تقریباً 714 ایمرجنسی سفری دستاویزات جاری کیں، جب کہ ابوظبی نے جنوری اور اپریل کے درمیان ان میں سے تقریباً 780 دستاویزات جاری کیں۔ تو یہ چار ماہ کی مدت تھی جس کو ٹریک کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں آپ کو مزید بتا سکتا ہوں کہ ملک بدری کے اعداد و شمار مستحکم ہیں۔ یہ صورت حال بڑی حد تک یو اے ای میں شاہی عدالت کی معافی سے پیدا ہوئی جس نے قید میں بند افراد کی رہائی اور وطن واپسی کو ممکن بنایا۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق: ’یہ کچھ افراد کو دی گئی شاہی معافی کے نتیجے میں ہوا جو جیل میں بند تھے۔ ہمارا سفارت خانہ اور حکام یو اے ای کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’خلیجی علاقے میں کشیدگی اور یو اے ای کے خلاف انتہائی سنگین حوثی حملوں کے نتیجے میں، جن کی ہم نے مذمت کی ہے، ہماری کمیونٹی مقامی قوانین اور ہدایات کی مکمل تعمیل کرتی ہے۔‘
ان کے مطابق: ’مجموعی طور پر، ایک یا دو معاملات کے علاوہ، کمیونٹی مقامی حکام کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ تو میرے خیال میں یہی موجودہ صورت حال ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’اس معاملے کو وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ذریعے نمٹایا جا رہا ہے، اور عمل اسی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ میں ملک بدری کے پیچھے کوئی سیاسی وجہ نہیں دیکھتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بنیادی طور پر قانونی معاملات ہیں، جن کو یو اے ای میں ہمارے سفارتی مشنز کے ساتھ ساتھ یو اے ای کے حکام دونوں کے ذریعے دیکھا جا رہا ہے۔‘
پاکستانی سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی روز سے ایسی ویڈیوز اور رپورٹس گردش کر رہی تھیں کہ کچھ پاکستانیوں کو یو اے ای سے واپس پاکستان بھیجا گیا ہے تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کی نیوز بریفنگ میں ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یو اے ای میں مختلف قانونی اور انتظامی خلاف ورزیوں کے باعث قید ان پاکستانیوں کی وطن واپسی شاہی عدالت کی معافی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔‘