امریکہ، ایران معاہدہ جلد متوقع ہے: ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امید ہے کے فریقین جلد ایک پُرامن اور دیرپا حل تک پہنچیں گے اور ہمارے خطے اور دنیا میں امن قائم ہوگا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی سات نومبر، 2025 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کر رہے ہیں (دفتر خارجہ)

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ جلد متوقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ ’بہت اچھی بات چیت‘ کے بعد مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ ’بہت ممکن‘ ہے

اوول آفس میں صحافیوں کو صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ کہ ’گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، اور یہ بہت ممکن ہے کہ ہم کوئی معاہدہ کر لیں۔‘

ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں جب ترجمان طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران میں معاہد کتنی جلد متوقع ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہم اب بھی پُرامید ہیں، اور میرا خیال ہے کہ سادہ جواب یہ ہوگا کہ ہمیں توقع ہے کہ معاہدہ جلد ہو جائے گا۔

’ہم امید کرتے ہیں کہ فریقین ایک پُرامن اور دیرپا حل تک پہنچیں گے اور ہمارے خطے اور دنیا میں امن قائم ہو گا۔‘

ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ’جیسا کہ ہمارے وزیراعظم نے کہا اور جیسا کہ میں نے ابھی دہرایا، ہم اب بھی کسی حل کے لیے پُرامید ہیں اور امید کرتے ہیں کہ فریقین جلد کسی تصفیے پر متفق ہو جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت، سفارتی ذرائع سے اسلام آباد کے ذریعے جو بھی پیش رفت ہوتی ہے اسے فوری طور پر آگے متعلقہ فریقوں تک پہنچایا جاتا ہے اور ’ہم امید کرتے ہیں کہ حتمی تصفیہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔‘

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی بدھ کو کہا تھا کہ ایران دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ ثالث پاکستان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دے گا۔

11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلے سے جاری دو ہفتوں کے لیے سیز فائر میں توسیع بھی ممکن ہو سکی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس کے بعد ایران کا مذاکراتی وفد پاکستان کا ایک اور دورہ کر چکا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف کر چکے ہیں۔

صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ان کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ ان کی رہائی ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی، حکومت نے قیدیوں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’طرابلس میں پاکستان کا سفارت خانہ، جو فی الوقت صومالیہ میں تفویض کردہ ہے، صومالی دفتر خارجہ کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہے۔

’کل ہی اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے براہ راست رابطہ قائم کیا گیا۔ صومالی حکام نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام زیر حراست افراد کی رہائی کے لیے بحری قزاقوں کے ساتھ فعال طور پر مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان