پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی مختصر مگر شدید جنگ کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ اس دوران نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ پاکستان کے اندر بھی مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہی حملوں میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے ایک علاقے میں واقع بلال مسجد پر میزائل حملہ بھی شامل تھا، جس نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس حملے میں بلال مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی جب کہ تین شہری جان کی بازی ہار گئے،حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسجد کے ساتھ واقع سکول اور قریبی رہائشی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا، اس واقعے نے مقامی آبادی کو خوف اور صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔
ایک سال گزرنے کے بعد صورت حال میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ متاثرہ مکانوں کی مرمت مکمل ہو چکی ہے اور مکین دوبارہ اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئے ہیں۔
اسی طرح متاثرہ سکول کو بھی بحال کر دیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ ایک نجی تعلیمی ادارہ تھا، اس لیے سکول انتظامیہ نے اپنی مدد آپ کے تحت اس کی تعمیرِ نو مکمل کی، اور آج وہاں دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔
واقعے کے عینی شاہدین اور متاثرین آج بھی اس رات کو یاد کرتے ہیں۔
بلال مسجد کے امام مولوی صدیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’رات کی تاریکی میں ہونے والے اس حملے نے نہ صرف عبادت گاہ کو شہید کیا بلکہ تین قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس سانحے کے باوجود اگلے ہی دن مسجد کی صفائی کی گئی اور نماز کی ادائیگی کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا۔‘
ان کے مطابق حالات جیسے بھی ہوں، عبادت اور ایمان کی طاقت کمزور نہیں پڑتی۔
دوسری جانب سکول کی پرنسپل، میڈم صائمہ نے بتایا کہ حملے کے اگلے روز سکول کی حالت انتہائی خراب تھی، مگر اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق ’نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اپنی مدد آپ کے تحت سکول کی تعمیر نو کا آغاز کیا گیا اور آج بچے دوبارہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘
سکول کی ایک ٹیچر فضا خان کے مطابق: ’حملے کے فوراً بعد ہی تعلیمی سلسلہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
انہوں نے بتایا کہ 10 مئی کو سکول کی کلاسز کھلے میدان میں لگانا شروع کر دی گئی تھیں تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت کے باوجود اساتذہ اور طلبہ کے حوصلے بلند رہے۔
سکول کے طلبا نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’حملے کی رات وہ شدید خوفزدہ تھے، اور اگلے دن جب انہوں نے اپنے سکول کو تباہ حال دیکھا تو ایسا لگا کہ شاید یہ دوبارہ آباد نہ ہو سکے۔
تاہم، اساتذہ اور انتظامیہ کی کوششوں سے سکول کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور آج وہ پہلے کی طرح فعال ہے۔
طلبہ کے مطابق ایسے حالات کے باوجود وہ خوفزدہ نہیں بلکہ پرعزم ہیں، اور زندگی کی طرف لوٹنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔