مظفر آباد: مظاہروں اور جھڑپوں میں آٹھ اموات، وزیر اعظم کی ہدایت پر مذاکرات

طارق فضل چوہدری نے جمعرات کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مظفر آباد میں کشمیر کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان حکومت کے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جمعرات کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مظفر آباد میں کشمیر کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والے ناخوشگوار واقعات پر جمعرات کو گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

پولیس کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خوراک، بجلی اور دیگر خدمات پر سبسڈی کے لیے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد جان سے گئے جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے دو سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہروں اور جھڑپوں میں مرنے والے افراد میں تین پولیس اہلکار اور پانچ عام شہری شامل ہیں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے ان جھڑپوں کو ختم کرنے کے لیے جمعرات کو اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی ہے۔  ساتھ ہی شہباز شریف نے مذاکراتی کمیٹی میں توسیع کرتے ہوئے اس میں سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزرا سردار یوسف، احسن اقبال، سابق صدر جموں و کشمیر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ کو شامل کیا ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جمعرات کو ایکس پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ’پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر چکا ہے۔‘

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھی وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کر چکی ہے کہ ’بامقصد بات چیت کے لیے مواصلاتی بلیک آؤٹ کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔‘

کور کمیٹی رکن سردار عمر نذیر کشمیری کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا: ’ہماری تحریک مکمل طور پر پرامن اور آئینی ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ہم ہتھیار نہیں اٹھائیں گے، لیکن بین الاقوامی برادری کی خاموشی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہونے والوں کو مزید ہمت دے گی اور عوام کے غصے میں اضافہ کر دے گی۔‘

وزیراعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ ’عوامی جذبات کا احترام یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری سختی سے اجتناب برتیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرین کا تعلق عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے مظاہرین کے 90 فیصد مطالبات پورے کر لیے ہیں، جن میں بجلی کے نرخوں میں کمی، مقامی حکومتوں میں اصلاحات اور مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کی واپسی شامل ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ دو مطالبات، جن میں وزرا کی تعداد کو کم کرنا اور کشمیری پناہ گزین کے لیے مخصوص نشستوں کو ختم کرنا شامل ہے، صرف قانون سازی کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکراتی کمیٹی کو فوراً مظفرآباد جانے اور مسائل کا فوری اور دیرپا حل نکالنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایکشن کمیٹی کے اراکین اور قیادت سے بھی اپیل کی کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کرے۔

 

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کشمیری گروپوں کے اتحاد کے سربراہ شوکت نواز میر نے احتجاج سے قبل کہا تھا کہ ’منتظمین خطے کے سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو حاصل مراعات اور سہولتوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مقامی یوٹیوب نیوز چینل دی کشمیر لنک کو بتایا: ’جب ہم کہتے ہیں کہ ہسپتالوں میں ادویات کی ضرورت ہے تو وہ (حکام) کہتے ہیں کہ فنڈز نہیں ہیں، لیکن عیش و عشرت کی زندگی کے لیے ان کے پاس پیسہ موجود ہے۔‘

احتجاج کرنے والوں کا ایک اور بڑا شکوہ یہ بھی ہے کہ مقامی کشمیر اسمبلی میں ایسی نشستیں مختص کی گئی ہیں جو پاکستان کے دیگر حصوں کے نمائندوں کے لیے مخصوص ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان