معاہدہ نہ ہو سکا تو جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں: ٹرمپ کی بلومبرگ ٹی وی سے بات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹیلیفونک بات چیت میں بلومبرگ ٹی وی سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں دیکھتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 اپریل 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے بعد گفتگو کرتے ہوئے (جم واٹسن / اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر بدھ کو ختم ہونے جا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں جلد متوقع۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیجنے کا اعلان، لیکن ایران تاحال فیصلہ نہ کر سکا۔

لائیو اپ ڈیٹس


ایران کے ساتھ نیا معاہدہ اوباما، بائیڈن جوہری ڈیل سے کہیں بہتر ہوگا: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب نیا معاہدہ کہیں بہتر ہو گا۔

اپنے سوشل میڈیا پر جاری پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ جو معاہدہ کر رہے ہیں وہ باراک اوباما اور جو بائیڈن کی جانب سے کیے گئے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے کہیں بہتر ہوگا، جو ہمارے ملک کی سکیورٹی کے حوالے سے کیے گئے بدترین معاہدوں میں سے ایک تھا۔‘

انہوں نے مزید لکھا: ’یہ دراصل (ایران کے لیے) ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی ایک یقینی راہ تھی، جو ہمارے زیرِ غور معاہدے کے ساتھ نہ ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے حقیقت میں 1.7 ارب ڈالر نقد رقم کی صورت میں، ایک بوئنگ 757 طیارے میں لاد کر ایران بھیجی تاکہ ایرانی قیادت اسے اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرے۔ اس مقصد کے لیے واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے تمام نقدی نکال لی گئی تھی۔ بینکاروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں دیکھا۔‘

صدر ٹرمپ نے کہا: ’اس کے علاوہ سینکڑوں ارب ڈالر ایران کو ادا کیے گئے۔ اگر میں اس معاہدے کو ختم نہ کرتا تو ایٹمی ہتھیار اسرائیل پر اور پورے مشرق وسطیٰ میں، حتیٰ کہ ہمارے اہم امریکی فوجی اڈوں پر بھی استعمال کیے جا سکتے تھے۔‘

انہوں نے لکھا: ’اگر ’ٹرمپ‘ کے تحت کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو وہ نہ صرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکہ اور پوری دنیا کے لیے امن، سکیورٹی اور تحفظ کی ضمانت دے گا۔ یہ ایسا معاہدہ ہوگا جس پر پوری دنیا فخر کرے گی، نہ کہ وہ جو ہمیں نااہل اور بزدل قیادت کی وجہ سے سالوں تک شرمندگی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔‘


معاہدہ نہ ہو سکا تو جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں: ٹرمپ کی بلومبرگ ٹی وی سے بات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹیلیفونک بات چیت میں بلومبرگ ٹی وی سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں دیکھتے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا وقت، جس کا انہوں نے 7 اپریل کو اعلان کیا تھا، ’بدھ کی شام واشنگٹن ٹائم‘ پر ختم ہو رہا ہے اور اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو ’بہت زیادہ امکان نہیں ہے کہ میں اس میں توسیع کروں گا۔‘


اسرائیل نے مجھے ایران جنگ کے لیے آمادہ نہیں کیا: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’اسرائیل نے مجھے ایران کے ساتھ جنگ میں جانے پر کبھی آمادہ نہیں کیا۔ سات اکتوبر کے واقعات اور میری زندگی بھر کی یہ رائے کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں، یہی اس (جنگ) کی وجہ ہیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا: ’میں نام نہاد فیک نیوز کے تجزیہ کاروں اور سروے دیکھ کر اور پڑھ کر حیران رہ جاتا ہوں۔ ان کی 90 فیصد باتیں جھوٹ اور من گھڑت کہانیاں ہوتی ہیں اور یہ پولز بھی دھاندلی پر مشتمل ہوتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے 2020 کا صدارتی انتخاب دھاندلی زدہ تھا۔‘

صدر ٹرمپ نے مزید لکھا: ’جیسے وینزویلا کے نتائج ہیں، جن کے بارے میں میڈیا بات کرنا پسند نہیں کرتا، اسی طرح ایران کے نتائج بھی حیران کن ہوں گے اور اگر ایران کی نئی قیادت (رجیم چینج) سمجھدار ہوئی تو ایران ایک عظیم اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔‘


ایران با وقار طریقے سے جنگ ختم کرنے کی کوشش کرے گا: صدر پزشکیان

صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان پر مسلط کی گئی جنگ کو قومی وقار برقرار رکھتے ہوئے ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ ’آج ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان مشکل حالات کو تدبر، حکمت اور قومی وقار کے تحفظ کے ساتھ سنبھالیں تاکہ بعد ازاں ہم درست منصوبہ بندی کے ذریعے تعمیر نو اور مسائل کے حل پر توجہ دے سکیں۔‘

ایرانی صدر نے کہا: ’یہ فطری بات ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ملک کو تعمیر نو، مالی وسائل کے حصول اور مارکیٹ کو کنٹرول کرنے جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کے لیے باریک بینی سے انتظام اور عوامی تعاون ضروری ہے۔‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی شرکت اور یکجہتی کے بغیر ان مشکلات پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔


جے ڈی وینس چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچنے والے ہیں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وفد آئندہ چند گھنٹوں میں ایران سے متعلق مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچنے والے ہیں۔

نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر پیش رفت ہوئی تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ (روئٹرز)


آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں: چینی صدر کی شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر بات

چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کو ٹیلیفون پر گفتگو میں سعودی ولی عہد سے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کو معمول کی آمد و رفت کے لیے کھلا رہنا چاہیے، کیونکہ یہ خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کے لیے ضروری ہے۔‘

چینی صدر نے سعودی ولی عہد سے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کی اس بات میں حمایت کرتا ہے کہ وہ ’اپنے مستقبل اور خود مختاری کی حفاظت کریں اور خطے میں طویل المدتی استحکام اور امن کو فروغ دیں۔‘


محسن نقوی کی امریکی اور ایرانی سفیروں سے الگ الگ ملاقات، ’مذاکرات کے فول پروف انتظامات‘

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

محسن نقوی نے پیر کو ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے الگ الگ ملاقات کی۔

دونوں ملاقاتوں  میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے انتظامات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی اور ایرانی سفیروں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔


ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ، ٹرمپ فیلڈ مارشل کے مشورے پر غور کریں گے: روئٹرز

پاکستانی سکیورٹی سورس نے پیر کو روئٹرز کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فون پر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کہا ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے بارے میں اُن کے مشورے پر غور کریں گے کیوں کہ یہ ایران کے ساتھ امن بات چیت میں رکاوٹ ہے۔


ایران کا امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کا ارادہ نہیں: دفتر خارجہ

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے کا دور کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

یہ بات ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران کہی۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک، جب کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، مذاکرات کے اگلے دور کے حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ نے ’جارحانہ عمل‘ اور سیز فائر کی خلاف ورزی سے واضح کر دیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ’سنجیدہ نہیں‘ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پیر کی صبح ایرانی کارگو جہاز پر امریکی حملہ، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی، اور لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ میں تاخیر، یہ سب جنگ بندی کی واضح خلاف ورزیاں ہیں۔‘

انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ سے مذاکرات میں پاکستان واحد باقاعدہ ثالث ہے۔‘


آبنائے ہرمز کی سکیورٹی مفت نہیں: ایران

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’سکیورٹی مفت نہیں ہے۔‘

انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ’آپ ایران کی تیل برآمدات کو محدود نہیں کر سکتے، جبکہ دوسروں کے لیے مفت سکیورٹی کی توقع رکھیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’انتخاب واضح ہے: یا سب کے لیے آزاد تیل منڈی یا پھر سب کو بھاری قیمت ادا کرنے کا خطرہ۔‘

عارف کے مطابق ‘عالمی ایندھن کی قیمتوں میں استحکام کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں پر معاشی اور عسکری دباؤ کا یقینی اور مستقل خاتمہ ہو۔‘


امریکہ کا ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ، ایران کا جواب دینے کا اعلان

ایران کی فوج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اتوار کو خلیج عمان میں ایک امریکی (ڈسٹرائر) جہاز کی ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز پر فائرنگ کا جواب دے گی۔

یہ ایرانی جہاز امریکی بحری ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے، جس کا حوالہ خبر رساں ادارے ISNA نے دیا، کہا ’ہم خبردار کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جلد ہی اس مسلح قزاقی اور امریکی فوج کے خلاف جواب اور جوابی کارروائی کریں گی۔‘

انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے آٹھ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانی جہاز ’توسکا‘ نے رکنے کے انتباہات کو نظر انداز کیا، جس کے بعد گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر USS Spruance نے ’ان کے انجن روم میں سوراخ کر کے اسے وہیں روک دیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمپ نے مزید کہا ’اس وقت امریکی میرینز نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس میں موجود سامان کی جانچ کر رہے ہیں۔‘

یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، جو دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور گذشتہ سات ہفتوں سے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً بند رہی ہے۔

ایران نے جمعے کو اس آبنائے کو عارضی طور پر کھولا تھا لیکن اگلے ہی دن اسے دوبارہ بند کر دیا کیونکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر اپنی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

اتوار کو ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے تہران پر الزام عائد کیا کہ اس نے بدھ کو ختم ہونے جا رہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہفتے کو اس اہم بحری گزرگاہ میں حملے کیے۔ اے ایف پی

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا