امریکہ سے مذاکرات میں پیش رفت، لیکن معاہدے سے کافی دور ہیں: ایران

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کے مطابق امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا، اسی لیے ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست کی۔

اسلامی مشاورتی اسمبلی نیوز ایجنسی کی یکم فروری، 2026 کو فراہم کردہ اس تصویر میں پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف تہران میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر جاری۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔

لبنان اور اسرائیل بھی 10 روزہ جنگ بندی پر متفق۔

ایران کا جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے اعلان کے بعد دوبارہ اسے بند کرنے کا فیصلہ

لائیو اپ ڈیٹس


امریکہ سے مذاکرات میں پیش رفت، لیکن معاہدے سے کافی دور ہیں: ایران

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن محمد باقر قالیباف نے ہفتے کی رات کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن دونوں فریق ابھی کسی معاہدے سے کافی دور ہیں۔

قالیباف نے قومی ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا ’ہم ابھی حتمی مذاکرات سے بہت دور ہیں۔ ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے، لیکن اب بھی بہت سے خلا موجود ہیں اور کچھ بنیادی نکات حل طلب ہیں۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران ’چالاکی‘ سے جنگ کا آغاز کیا اور اسے ’تیسری مسلط کردہ جنگ‘ قرار دیا۔ 

ان کے مطابق پچھلی جنگ کے برعکس اس بار ایران کا ردعمل فوری تھا۔

قالیباف نے کہا عوامی شرکت نے اہم کردار ادا کیا اور ’میدان اور سڑک‘ دونوں میں ایران کو برتری حاصل رہی۔ 

ان کے مطابق ایران نے فوجی لحاظ سے پیش رفت کی، ڈرون مار گرائے اور جدید طیاروں (جیسے ایف-35) کو نشانہ بنایا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران مجموعی طاقت میں امریکہ سے زیادہ مضبوط نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا، اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ 

ان کے مطابق دشمن ایران کو چند دنوں میں شکست دینا چاہتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

قالیباف نے کہا کہ امریکہ نے 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے بھیجا، جس پر ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل میں غور کیا گیا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ایران نے واضح کیا کہ اگر امریکہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا تو ایران بھی جواب دے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی میں لبنان اور حزب اللہ کو شامل کرنا ایران کی شرط تھی۔ 

قالیباف کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور اگر امریکہ نے ’محاصرہ‘ جاری رکھا تو آمدورفت محدود کی جا سکتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا اور مذاکرات کو ’جدوجہد کا ایک طریقہ‘ قرار دیا۔ 

ان کے مطابق ایران بیک وقت سفارت کاری، فوجی طاقت اور عوامی حمایت تینوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔

قالیباف نے کہا کہ ایران مستقل امن چاہتا ہے تاکہ ’جنگ اور جنگ بندی کے چکر‘ کو ختم کیا جا سکے، لیکن اس کے لیے ضمانت ضروری ہے۔


مشرق وسطی تنازعے کے باعث بنگلہ دیش میں تیل 15 فیصد تک مہنگا

بنگلہ دیش نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے باعث سپلائی میں کمی پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ کر دیا۔

وزارت توانائی کے مطابق پیٹرول 116 ٹکا فی لیٹر سے بڑھا کر 135 ٹکا (1.10 ڈالر) کر دیا گیا ہے جبکہ ڈیزل 115 ٹکا اور مٹی کا تیل 130 ٹکا فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور فریٹ و انشورنس اخراجات میں اضافے کے باعث درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ روئٹرز


 ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی، تجارت ’مکمل مفلوج‘: امریکہ

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی سے آنے اور جانے والی تجارت ’مکمل طور پر مفلوج‘ ہو گئی ہے۔

سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر ایک بیان میں کہا گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس پِنکنی (DDG 91) اس ناکہ بندی کے تحت علاقائی پانیوں میں گشت کر رہا ہے۔ 

بیان کے مطابق ’ناکہ بندی نے ایران کے سمندر کے راستے آنے اور جانے والی اقتصادی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا