|
امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر جاری۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔ امریکی فوج کا ایران کی سمندر میں تجارت کو مکمل بند کرنے کا دعویٰ۔ لائیو اپ ڈیٹس |
پاکستان کو سعودی عرب سے دو ارب ڈالر موصول
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو بتایا ہے کہ اسے سعودی عرب سے دو ارب ڈالر کا فنڈ موصول ہو گیا ہے۔
پاکستان کے مرکزی بینک نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’سٹیٹ بینک کو سعودی عرب کی وزارت خزانہ کی جانب سے دو ارب ڈالر کے فنڈ موصول ہو گئے ہیں۔‘
لبنان اور اسرائیل کے رہنما آج بات چیت کریں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات جمعرات کو ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا کہ ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان قدرے سانس لینے کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ دونوں رہنماؤں کو آپس میں بات کیے ہوئے ایک طویل عرصہ ہو گیا ہے، تقریباً 34 سال۔ یہ کل ہو گا۔ بہت خوب۔ صدر ڈی جے ٹی۔‘
امریکہ کا ایرانی تیل پر پابندیاں سخت کرنے کا اعلان
امریکہ نے بدھ اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی تیل کی صنعت پر پابندیاں سخت کر رہا ہے جب کہ تہران نے مشرق وسطی کی جنگ کے حصے کے طور پر آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نئی سزا میں ایرانی تیل کی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے تحت پٹرولیم شپنگ کے بڑے تاجر محمد حسین شمخانی کے نیٹ ورک میں کام کرنے والے دو درجن سے زائد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف مالی دباؤ کی مہم کا اشارہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا، ’محکمہ خزانہ شمخانی خاندان جیسی حکومتی اشرافیہ کو نشانہ بنا کر ’معاشی اشتعال‘ کے ساتھ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے جو ایرانی عوام کی قیمت پر منافع کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
امریکی سینٹ کی اسرائیل کو فوجی سامان فروخت کرنے کی حمایت
امریکی سینیٹ نے بدھ کو ان دو قراردادوں کو روک دیا ہے جن کے ذریعے اسرائیل کو تقریباً ساڑھے 45 کروڑ ڈالر مالیت کے بموں اور بلڈوزروں کی فروخت روکی جا سکتی تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حامی رپبلکن پارٹی نے یہودی ریاست کی حمایت کا اظہار کیا۔
روئٹرز کے مطابق 47 رکنی سینیٹ ڈیموکریٹک کاکس کی بڑی اکثریت کی جانب سے قراردادوں کی حمایت نے اس جماعت کے اندر غزہ، لبنان اور ایران پر اسرائیلی حملوں کے شہریوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کو اجاگر کیا۔
امریکی کانگریس میں اسرائیل کی دو جماعتی مضبوط حمایت کی کئی دہائیوں پرانی روایت کا مطلب ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قراردادوں کے منظور ہونے کا امکان نہیں ہے، لیکن حامیوں کو امید ہے کہ اس مسئلے کو اٹھانے سے اسرائیل کی حکومت اور امریکی انتظامیہ شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے پر آمادہ ہوں گی۔
اسرائیل کو اسلحے کی فروخت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک اہم اتحادی ہے جسے امریکہ کو فوجی سازوسامان فروخت کرنا چاہیے۔
ڈیموکریٹس کے ساتھ منسلک آزاد امیدوار، ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز نے قراردادوں پر ووٹنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فروخت غیر ملکی امداد کے ایکٹ اور آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ میں غیر ملکی امداد کے معیار کی خلاف ورزی ہے۔
48 گھنٹے میں 10 ایرانی بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا: امریکی فوج
اے ایف پی کے مطابق امریکی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے کامیابی کے ساتھ 10 بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا ہے جنہوں نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے پہلے 48 گھنٹے کے دوران ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے کی کوشش کی۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’پیر کو امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 10 بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا ہے اور صفر بحری جہاز گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘
سینٹ کام نے اس سے قبل واپس موڑے گئے بحری جہازوں کی تعداد نو بتائی تھی، لیکن 10 ویں کا اضافہ کیا جس کے بارے میں اس نے کہا کہ اسے امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کے ذریعے ایران کی طرف ’واپس بھیجا گیا‘
ایران فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا: فیفا
بین الاقوامی فٹ بال ایسوسی ایشن فیڈریشن (فیفا) کے صدر گیانی انفینٹینو نے بدھ کو کہا کہ مشرق وسطی کی جنگ کے باوجود ایران 2026 کے ورلڈ کپ میں ’یقینی طور پر‘ شرکت کرے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انفینٹینو نے نشریاتی ادارے سی این بی سی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران یقینی طور پر آ رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس وقت تک صورت حال پرامن ہو جائے گی، جس سے یقینا مدد ملے گی۔‘
جون میں امریکہ میں شیڈول ٹیم کے آئندہ میچوں کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’لیکن ایران کو آنا ہے، وہ اپنے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، انہوں نے کوالیفائی کیا ہے اور کھلاڑی کھیلنا چاہتے ہیں۔‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کی وجہ سے عالمی ٹورنامنٹ میں ایران کی شرکت شکوک و شبہات کا شکار ہو گئی تھی۔
انفینٹینو کا کہنا تھا کہ ’کھیلوں کو سیاست سے الگ ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر کوئی اور رابطے استوار کرنے اور انہیں جوڑے رکھنے پر یقین نہیں رکھتا، تو ہم یہ کام کر رہے ہیں۔‘
امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا ورلڈ کپ 11 جون سے شروع ہو رہا ہے۔