اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی چند واقعات نے ان بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا جن پر موجودہ عالمی نظام استوار تھا۔
سب سے پہلے 9/11 کا واقعہ، جب غیر ریاستی عناصر کی طرف سے بین الاقوامی دہشت گردی ایک بڑے خطرے کے طور پر ابھری۔
امریکہ نے 2001 میں القاعدہ کو سزا دینے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا ۔ 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا، جس نے طاقت کے غیر قانونی اور پیشگی استعمال کی ایک خطرناک مثال قائم کی۔
اب یہ عالم ہے کہ گذشتہ ڈھائی دہائیوں میں مسلح تنازعات دور دور تک پھیل چکے ہیں۔ اس وقت 49 ریاستوں کے درمیان اور ان کے اندر 56 مسلح تنازعات ہیں۔
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے جدید جنگ کی پیچیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ آزاد بین الاقوامی تجار ت کی جگہ ٹیرف کی جنگیں شروع ہیں۔
زینو فوبیا بڑھ رہا ہے، پاپولسٹ لیڈر اقلیتوں کے عقیدے، نسل یا زبان کی بنیاد پر نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس غیر یقینی عالمی ماحول کے درمیان، بڑی طاقتوں کی باہمی مسابقت دنیا کے پرامن مستقبل کے بارے میں سوال اٹھا رہی ہے۔
گذشتہ ڈھائی دہائیوں میں ایک طرف امریکہ طویل، دور دراز جنگوں میں مصروف تھا جبکہ دوسری طرف چین اپنی اقتصادی ترقی، اختراعات اور ترقی پر مرکوز رہا۔
چین کا معاشی عروج اتنا تند و تیز تھا کہ امریکہ نے نومبر 2011 میں ایشیا کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تزویراتی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔
ایشیا کی طرف امریکی محور کہلائے جانے والی اس تبدیلی کا مقصد ابھرتے ہوئے چین کو روکنا اور مشرقی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں سے فائدہ اٹھانا تھا۔
بعد میں، اسی پالیسی کے تسلسل میں، امریکہ نے انڈوپیسیفک حکمت عملی کا آغاز کیا تاکہ بحر ہند اور بحر الکاہل میں سمندری راستوں کو آزاد اور کھلا رکھا جا سکے۔
امریکہ نے جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا کے ساتھ کواڈ اور آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ آکس معاہدہ کیا۔
دریں اثنا، شی جن پنگ، جنہوں نے مارچ 2013 میں چین کی صدارت سنبھالی تھی، نے ون بیلٹ، ون روڈ کے نام سے ایک بڑے عالمی انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے منصوبے کا آغاز کیا، جسے بعد میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا نام دیا گیا۔
اس کا مقصد ریلوے، سڑکوں، بندرگاہوں، اور توانائی کی پائپ لائنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے چین کو بیرونی دنیا سے جوڑنا اور کنیکٹیوٹی پروجیکٹس اور سپلائی چینز کے ذریعے باہمی انحصار پیدا کرنا تھا۔
اسی سال (2013) میں، صدر شی اور صدر پوٹن نے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات کو ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری‘ میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔
جس کے تحت، انہوں نے اپنی خارجہ پالیسیوں کو ’کثیر قطبی دنیا‘ میں مربوط کرنے اور جبر اور تسلط کی مغربی پالیسیوں کی مخالفت کا اعلان کیا۔
اس میٹنگ کو اکثر تجزیہ کاروں نے مستقبل کے نئے عالمی نظام کی داغ بیل ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
دو سال بعد 2015 میں، روس نے اپنی ’مشرق کی طرف رخ‘ پالیسی کا اعلان کیا اور اس ضمن میں بحر اوقیانوس سے بحرالکاہل تک جیو اکنامک تعاون کو فروغ دینے کے لیے گریٹر یوریشین پارٹنرشپ کے تصور کی تجویز پیش کی۔
یہ تجویز چین کے بی آر آئی پروگرام کے ساتھ بڑی حد تک ہم آہنگ تھی۔ چین نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ایشیا کو یورپ سے ملانے والے زمینی پل بنانے شروع کر دیئے۔
چینگدو سے براستہ منگولیا روس کی ٹرانس سائبیرین ریلوے تک ایک شمالی کوریڈور قائم کیا گیا۔ ملٹی موڈل مڈل کوریڈور نے چین کو قازقستان، بحیرہ کیسپین کی بندرگاہوں، آذربائیجان اور ترکی کے ذریعے یورپ سے جوڑ دیا۔
ایک براہ راست اوورلینڈ ہائی وے چین کو وسطی ایشیا کے راستے روس سے ملاتی ہے۔ بحر آرکٹک میں برف پگھلنے کےعمل کے ذریعے بحر الکاہل کو بحر اوقیانوس سے ملانے والا مختصر ترین سمندری راستہ دستیاب ہونے کا امکان بھی ہے۔
تزویراتی لحاظ سے، یہ یوریشین روابط معمول کے سمندری راستوں کا تیز تر متبادل فراہم کرتے ہیں، اس طرح آبنائے ملاکا اور پھر باب المندب سے گزرنے والے سمندری راستے پر چین کا انحصار کسی حد تک کم ہوتا ہے۔
گریٹر یوریشین فریم ورک امریکہ کی انڈو پیسیفک حکمت عملی کے لیے ایک دھچکا تھا۔ اس تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے، ٹرمپ انتظامیہ نے تین جہتی اصلاحی عمل کا آغاز کیا۔
اول، امریکہ نے انڈو پیسیفک حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانا شروع کی۔
دسمبر 2025 کی امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی نے لبرل بین الاقوامیت پر اقتصادی قوم پرستی کو ترجیح دی، اور مغربی نصف کرہ کو اپنی اولین علاقائی ترجیح کے طور پر پیش کیا۔
دوم، امریکہ نے اس حقیقت کو تسلیم کرنا شروع کیا کہ چین اب اس کی ہم پلہ عالمی طاقت بن چکا ہے۔ 14 مئی 2026 کو بیجنگ میں، ٹرمپ اور شی نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو تصادم سے ’تعمیری تزویراتی استحکام‘ کی طرف منتقل کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی طے ہوا کہ معاشی مقابلے کو بات چیت کے ذریعے حدود میں رکھا جا ئے گا۔
سوم، امریکہ نے نیٹو اور یورپ میں اپنے اتحادیوں کو تنبیہ کی کہ وہ صرف امریکی سکیورٹی پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی سکیورٹی پر زیادہ خرچ کریں۔
اسی مناسبت سے، یورپی یونین نے اپنے ’ریڈینس 2030‘ پروگرام میں یورپی مشترکہ دفاع کی طرف بڑے پیمانے پر تبدیلی کا خاکہ پیش کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک اور کینیڈا نے اپنے اقتصادی آپشنز کو کھلا رکھنے کے لیے چین کے ساتھ اپنے روابط کو بھی بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
گویا دنیا اب امریکہ کےتسلط سے آزاد عالمی نظام کی تیاری کر رہی ہے۔ اس ضمن میں چین نے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے، خاص طور پر گلوبل سکیورٹی انیشیٹو جو ناقابل تقسیم سلامتی کا تصور پیش کرتا ہے۔
خیال یہ ہے کہ بالادستی اور تسلط کے مغربی تصور کو اجتماعی اور تعاون پر مبنی سلامتی کے ماڈل سے بدل دیا جائے، یعنی ایسا عالمی نظام قائم کیا جائے جس کی بنیاد مساوی اور جمہوری شراکت اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام پر رکھی گئی ہو۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سٹریٹجک تبدیلیاں جنوبی ایشیا پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے تحت، انڈیا نے اپنے آپ کو امریکہ کی انڈو پیسیفک حکمت عملی کے مرکزی جزو کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔
یہ امریکہ کے مشرقی کواڈ (آسٹریلیا، انڈیا، جاپان، امریکہ) اور مغربی کواڈ (انڈیا، اسرائیل، یو اے ای، امریکہ) کا ایک فعال رکن بن گیا۔
تاہم، تین حالیہ معاملات نے امریکہ کے لیے انڈیا کی اہمیت کو قدرے کم کر دیا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ امریکہ اور چین نے پرامن مقابلے کے لیے اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اگرچہ وہ بہت سے مسائل پر اختلاف رکھتے ہیں، لیکن ان کا تھوسیڈائڈز کے جال میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوم، مئی 2025 میں انڈیا کو پاکستان کے خلاف اپنی جارحیت میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے عسکری پروفائل میں زبردست اضافہ ہوا۔
تیسرا، پاکستان ایران-امریکہ جنگ میں ایک قابل قبول ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جس سے پاکستان کا سفارتی پروفائل بلند ہوا ہے، جس نے پاکستان کو تنہا کرنے کی انڈیا کی ایک دہائی سے جاری کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
دریں اثنا، چین نے ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا فولادی دوست ہے، جو تواتر سے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل وابستگی کی تصدیق کرتا چلا آیا ہے۔
دوسری طرف جہاں امریکہ اپنی انڈو پیسیفک حکمت عملی سے دور ہو رہا ہے وہاں انڈیا امریکہ کے ساتھ اپنی پھلتی پھولتی شراکت کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
بنگلہ دیش، پاکستان اور چین نے اپنے تعاون میں اضافہ کیا ہے اور جنوبی ایشیا میں نئی تنظیم بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
جنوبی ایشیا کی علاقائی جغرافیائی سیاست ایک بڑی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ ان زمینی حقائق کے پیش نظر، کئی قابل ذکر ہندوستانی مفکرین مودی حکومت کو پاکستان اور چین کے خلاف اپنے مخالفانہ موقف پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مودی حکومت ان سٹریٹیجک تبدیلیوں کو درست طریقے سے پڑھ پائے گی اور پاکستان کی طرف اپنی خارجہ پالیسی کی اصلاح کر پائے گی۔
مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
