امریکہ کی آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا کیا مطلب ہے؟

امریکہ کے مطابق ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر لاگو ہو گی جو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔

(اے ایف پی)

پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے آخر میں ہونے والے امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کرے گی۔

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی بحریہ ہر اُس جہاز کی ناکہ بندی شروع کرے گی جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے گا۔ 

انھوں نے مزید لکھا کہ کچھ وقت بعد ہم اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ سب کو اندر آنے اور باہر جانے کی اجازت ہو گی۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب ایران نے فروری کے آخر میں اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے عملی طور پر بند کر رکھی ہے۔

تاہم، ایران نے کچھ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کے سمندری راستے سے جانے والے تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ یا سینٹ کام نے اتوار کو کہا کہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر لاگو ہو گی جو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے، جن میں خلیج عرب اور خلیج عمان کی تمام ایرانی بندرگاہیں شامل ہیں۔

امریکی بحریہ کی ناکہ بندی سے کیا مراد ہے؟

امریکی بحریہ کی 2022 کی ہینڈ بک کے مطابق ناکہ بندی ایک ’جنگی کارروائی ہے جس کا مقصد تمام ممالک (دشمن اور غیر جانب دار) کے جہازوں یا طیاروں کو مخصوص بندرگاہوں، ہوائی اڈوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روکنا ہے، جو دشمن ریاست کے قبضے یا کنٹرول میں ہوں۔‘

یہ کیسے نافذ کی جا سکتی ہے؟

ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد فوری طور پر ناکہ بندی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اتوار کو فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اس میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج ان جہازوں کی آزادانہ آمدورفت میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گی جو آبنائے ہرمز سے گزر کر غیر ایرانی بندرگاہوں تک جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں۔

ناکہ بندی پیر کو شام سات بجے پاکستانی وقت کے مطابق شروع ہو گی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس کی ایک ماہر نیتیا لبھ نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کیسے نافذ کیا جائے گا؟ ٹرمپ خود بھی کہہ چکے ہیں کہ افواج کو اپنی جگہ پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن وہ جلد پہنچ جائیں گی۔

نیتیا کے مطابق ’امریکہ نے یہ بھی کہا کہ اتحادی ممالک اس میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ملک امریکہ کے ساتھ اس میں شامل ہونے کا وعدہ کرے گا اور یہ بھی واضح نہیں کہ امریکہ اسے اکیلے عملی طور پر نافذ کر سکتا ہے یا نہیں۔‘

تاہم سابق امریکی نیوی سیل اور سینٹ کام کے سابق نائب کمانڈر باب ہاروڈ نے کہا کہ امریکی بحریہ اس مشن کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور میری ٹائم انٹرسیپشن ان کی ایک اہم مہارت ہے۔

سپیشل فورسز، میرینز اور کوسٹ گارڈ سب یہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

باب کے مطابق ’ہم یہ وینزویلا کے ساتھ بھی کر چکے ہیں، اس لیے یہ ممکن ہے، کیا جائے گا، اور کرنا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا